راج ناتھ سنگھ کی دھمکیوں سے بھارت کی مجرمانہ ذہنیت اوربوکھلاہٹ کی عکاسی ہوتی ہے
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںتجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ دھمکی آمیز بیان سے نئی دہلی کی مجرمانہ ذہنیت اور اس کا جارحانہ رویہ بے نقاب ہوتا ہے جس سے جنوبی ایشیا میں امن کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق راج ناتھ سنگھ کے بیان سے جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوںپڑوسیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بیان بازی بھارت کے اندرونی بحرانوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کی جابرانہ پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت طویل عرصے سے خاص طور پر اندرونی تنقید کے دوران اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے جارحانہ بیان بازی اور جنگی جنون پر انحصار کررہیہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میںبڑھتے ہوئے معاشی مسائل، بے روزگاری اور اختلافِ رائے سے نمٹنے کے بجائے بی جے پی حکومت جھوٹ اور بیرونی خطرات کا سہارا لیتی ہے۔سیاسی ماہرین نے کہا کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے جائز مطالبے کو دبانے میں ناکامی کے بعد اس طرح کے بیانات سے بھارتی قیادت کی بوکھلاہٹ ظاہرہوتی ہے۔ علاقے میں سالہاسال سے بھاری تعداد میں فوج کی موجودگی، کالے قوانین کے نفاذ اور مواصلاتی بلیک آو¿ٹ کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کیاجاسکا ہے۔








