
کولکتہ:بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو دراندازوں کی فیکٹری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں اس جماعت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شمالی 24پرگنہ ضلع کے علاقے پانیہاٹی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی بنگالیوں کو دیگر ریاستوں میں درانداز قرار دے کرانتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کوئی بنگالی اپنی زبان بولتا ہے تو اسے درانداز کیوں کہا جاتا ہے اور اس پر تشدد کیوں کیا جاتا ہے؟انہوں نے کہاکہ بہار، اتر پردیش اور راجستھان میں بنگالیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیا دہلی کے جاگیردار اس کا جواب دیں گے؟ بنگالیوں کو بنگالی بولنے پر درانداز کیوں کہا جائے گا؟ ہماری سرحدوں کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے؟ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی دراندازوں کی فیکٹری ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی واقعی دراندازوں کی فیکٹری ہے اور مغربی نگال میں دراندازوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ مرکزی تحقیقاتی اداروں کو ترنمول کانگریس کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ ان ہوں نے کہاکہ ان اداروں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم وہ اس دبائو کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے ووٹر لسٹوں سے90 لاکھ سے زائد افراد کے نام خارج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت عدالت سے رجوع کرے گی تاکہ متاثرہ افراد کے نام دوبارہ بحال کیے جا سکیں۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ترنمول کانگریس آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور بی جے پی کو شکست دے گی۔






