مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل تیزی سے سکڑ رہی ہے

 

سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل انتہائی تیزی سے سکڑ رہی ہے اور اس کے پانی میں10فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے کے کمپٹرولر اینڈآدیٹر جنرل ( سی اے جی) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں وادی کشمیر کی تاریخی جیل کے تیز سے سکڑنے پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ سال 2007سے2020کے درمیان جھیل کے کھلے پانی کا رقبہ 15.40مربع کلو میٹر سے گھٹ کر صرف 12.91مربع کلو میٹر رہ گیا جو تقریبا10.15فیصد کی کمی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی جھیل کے ماحولیاتی توازن کیلئے نہایت تشویشناک ہے اور اسکے پیچھے بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت ، ناقص سیوریج نظام اور کمزور نگرانی جیسے عوامل کارفرما ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جہاںجھیل کا اصل پانی مسلسل کم ہورہا ہے ، وہیںفلوٹنگ ویجی ٹیشن (سبزیوں کی کاشت) زرعی رقبے اور تعمیرات میں نمایاںاضافہ دیکھا گیا ہے جو جھیل کے قدرتی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ سی اے جی نے اس بات پرافسوس ظاہر کیا کہ لیک کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اٹھارتی جھیل میںہونے والی ان تبدیلیوں کو نہ تو مناسب طریقے سے روک پائی ہے اورنہ ہی ان کے اسباب کی معیاری تحقیقات کی گئیں۔ رپورٹ میںانکشاف کیا گیا کہ جھیل میں آلودہ پانی کے بہائو کو روکنے کیلئے بنائے گئے متعدد ایس ٹی پیز مطلوبہ معیار کے مطابق کام نہیں کر رہے جس کے نتیجے میں گھریلو، تجارتی اور ہائوس بوٹس کا فضلہ بدستور جھیل میں شامل ہو رہا ہے اور اس سے جھیل کی آبی صحت مزید متاثر ہو رہی ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سیوریج سسٹم کی تکمیل کئی برس سے تاخیر کا شکار ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button