بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کی یونیورسٹیوں کا امریکی این جی او کے ساتھ اشتراک عمل کا معاہدہ منسوخ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قائم تین یونیورسٹیوں نے امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ اس وقت اپنے معاہدے ختم کر دیے جب بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے مداخلت کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں پر اعتراض ظاہر کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر کیئر فاو¿نڈیشن (KCF) نے جس کا ہیڈکوارٹر امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں ہے اور جو ایک غیر منافع بخش، غیر مذہبی اور غیر سیاسی تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے، 2025 میں کشمیر یونیورسٹی (KU)، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (IUST) اور شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SKUAST) کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدے تنظیم کے قیام کے ایک سال بعد کیے گئے تھے۔ لیکن بھارتی ایجنسیوں کے اعتراض کے بعد اب تینوں یونیورسٹیوں نے الگ الگ خطوط کے ذریعے فاﺅنڈیشنکو ان معاہدوں کی منسوخی کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں دسمبر 2025 میں ہونے والا معاہدہ خاص طور پر سائنس، ٹیکنالوجی، ہیومینیٹیز اور متعلقہ شعبوں میں ورکشاپس، سیمینارز اور دیگر علمی پروگراموں اور تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کیا گیاتھا۔تاہم یونیورسٹی کی جانب سے فاو¿نڈیشن کے صدر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ اس معاہدے کو جاری رکھنا ادارے کے وسیع تر مفاد میں نہیںہے۔ اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور زرعی یونیورسٹی (SKUAST) نے بھی معاہدے کو ختم کرنے کے لیے کے سی ایف کو باقاعدہ خطوط ارسال کئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے دباﺅ پر کیاگیاہے ۔
مبصرین اور تجزیہ کار اس اقدام کو مقبوضہ جموں وکشمیرمیں تعلیمی اداروںپربڑھتی ہوئی نگرانی اور پابندیوں کا عکاس قراردیتے ہیں جس سے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اشتراک عمل کی ان کی صلاحیت محدود ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ایک ایسا ماحول قائم ہوتا ہے جس میں علم اور فکری نشوونما کو انتظامی اور سیاسی حدود میں قید کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی تعاون پر پابندیوں سے نہ صرف طلباءاور اسکالرز دنیاکے سامنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں بلکہ یہ جدیدیت اور تنقیدی سوچ میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں جو کھلے پن اور خیالات کے تبادلے سے پروان چڑھتی ہیں۔اس اقدام نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے جنہیں خدشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی نگرانی اور مداخلت سے علاقے میں تعلیمی ادارے مزید الگ تھلگ ہوسکتے ہیں اور علم وتحقیقکے مراکز کے طور پر ان کا کردار کمزورہوسکتا ہے۔







