دلی فسادات کیس: عمر خالد کی بھارتی سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست، عدالتی عمل پر تعصب کے الزامات

نئی دلی:جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ یونین کے سابق رہنما عمر خالدنے 2020کے نئی دلی فسادات سے متعلق مبینہ سازش کیس میں بھارتی سپریم کورٹ میں 5جنوری کو ضمانت مسترد کیے جانے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینئر وکیل کپل سبل نے کیس کی غیر معمولی نوعیت کے پیش نظر کھلی عدالت میں سماعت کی درخواست کی ہے۔ عدالت نے اس سے قبل عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، تاہم دیگر پانچ ملزمان کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی گئی تھی۔عمر خالد 13 ستمبر 2020سے مسلسل قید ہیں اور ان پرمتنازعہ قانون شہریت کے خلاف مظاہروں کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کا الزام ہے۔
یاد رہے کہ فروری 2020میں دلی میں ہونے والے فسادات میں ، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران کئے گئے تھے 53افراد ہلاک اور 700سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یہ تشدد متنازعہ قانون شہریت اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف احتجاج کے دوران سامنے آیا تھا۔قانونی ماہرین نے مقدمات کی تشکیل اور عدالتی فیصلوں میں مبینہ تعصب پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں خاص طور پر مسلم کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں امتیازی رویہ دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ جیسے کالے قوانین کواختلاف رائے کو دبانے اور مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔






