مقبوضہ جموں و کشمیر

لکھنومیں این آئی اے عدالت نے جھوٹے کیس میں ایک کشمیری سمیت تین افراد کو سزا سنائی

لکھنو:بھارتی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے 2021 میں درج ایک جھوٹے کیس میں ایک کشمیری سمیت تین افراد کو سزا سنائی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سزا پانے والوں کی شناخت مقبوضہ جموں وکشمیر میںضلع بڈگام کے رہائشی توحید احمد شاہ اور لکھنو سے تعلق رکھنے والے مصیرالدین اور منہاج احمد کے طورپر ہوئی ہے۔ عدالت نے پانچ سال کی قید سے لے کر عمر قید تک کی مختلف سزائیں سنائیں۔ تینوں پر 20،20 ہزارروپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔اس سے پہلے لکھنو سے تعلق رکھنے والے تین دیگر ملزمان شکیل، محمد مستقیم اور محمد معید کو بھی اسی کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔ این آئی اے نے تمام چھ افراد کے خلاف 2022 میں دو چارج شیٹس کے ذریعے الزامات عائد کیے تھے کہ وہ بنیاد پرستی اور عسکریت پسندوں کی بھرتی کے نیٹ ورک میں ملوث ہیں جس کا مقصد بھارت کے یوم آزادی کی تقریبات سے قبل لکھنو¿ سمیت اتر پردیش کے مختلف شہروں میں حملے کرنا تھا۔تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام اکثر کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کو نشانہ بنانے خاص طور پر اختلافی آوازوں کو دبانے کے لئے اس طرح کے جھوٹے مقدمات قائم کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے سکیورٹی کے نام پر خوف ودہشت کا ماحول پیدا کرنے اور سیاسی اور شہری آزادیوں کودبانے کی عکاسی ہوتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button