بھارت

منی پور میں تحریک آزادی زوروں پر ، مودی حکومت لو کوں کا تحفظ کرنے میں ناکام

اسلام آباد : بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں آزادی کی تحریک میں روز بروز تیزی آتی جا رہی ہے جہاںکوکی قبیلے سے وابستہ لوگ اپنی مقننہ کے ساتھ ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں اوروہ دلیل دے رہے ہیں کہ بڑھتے ہوئے حملوں اور ریاستی تعصب کے بعد میتی قبیلے کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اب ممکن نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مطالبہ 2025اور2026 میں شدت اختیار کر گیا اور کوکی رہنماو¿ں نے کسی بھی حکومت کی حمایت کو علیحدہ ریاست کی جانب ٹھوس پیش رفت سے مشروط کیا۔منی پور میں جاری تشددسے جو مئی 2023 میں میتی اور کوکی قبیلوں کے درمیان شروع ہوا تھا، ایک شدید انسانی بحران پیدا ہواہے۔منی پور کا نسلی تنازعہ بنیادی طور پر میتی اورکوکی قبیلوںکے درمیان زمین کے حقوق ، میتی قبیلے کو درجہ فہرست قبیلے کا درجہ دینے اور وسائل کی تقسیم پر شروع ہوا تھا ۔ میتی قبیلے کے لوگ جو زیادہ تر ہندو ﺅں پر مشتمل ہیں اورمجموعی آبادی کا 53فیصد ہیں ، وادی امپھال میں رہتے ہیں جبکہ کوکی قبیلے کے لوگ جو زیادہ تر عیسائی ہیں ، پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں ۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق مئی 2023میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک 260کے قریب افراد ہلاک جبکہ 60ہزارسے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔ ہزاروں مکانات اورسینکڑوں گرجاگھراورمندر تباہ ہوئے ۔علاقے میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جن میں ماورائے عدالت قتل ، بلا جواز گرفتاریاں اوراجتمای عصمت دری شامل ہے۔جولائی 2023 میں دو کوکی خواتین کی برہنہ پریڈ اور اجتماعی عصمت دری کا ایک المناک واقعہ سامنے آیا۔ اجتماعی عصمت دری کے بعدزندہ بچ جانے والی ایک 20 سالہ کوکی خاتون جنوری 2026 میں شدید زخٰموں اور صدمے سے چل بسی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے استثنیٰ کے کلچر، شہریوں کے تحفظ میں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی ناکامی کی تصدیق کی ہے اور مسلح گروپوں اور بھارتی فورسز کیطرف سے ہونے والی زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔
حکومت نے کوکی اکثریتی پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پوست کی کاشت اور سرحد پارمیانمار سے منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگاتے ہوئے اسے "منشیات دہشت گردی” قرار دیا۔ بھارتی فورسز نے 2025-2026 کی کارروائیوں میں ہزاروں ایکڑ زمین کو تباہ کیا۔13 فروری 2025 کو این بیرن سنگھ کے بطور وزیر اعلیٰ استعفیٰ دینے کے بعد صدر راج نافذ کیاگیا اور 4 فروری 2026 کو ختم کیاگیا۔ بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی ایک نئی حکومت وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ (میتی قبیلے کا) کی سربراہی میں قائم کی گئی جس میں کوکی اور ناگا کے نائب وزرائے اعلیٰ کو شامل کیاگیا۔صدر راج اور نئی حکومت کے قیام سے افراتفری اور بدامنی مزید بڑھ گئی۔موجودہ وزیر اعلیٰ، سابق وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ اور بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت 2023 سے ناکام ہو چکی ہے۔ریاست میںبھارتی فورسز کے خصوصی دستے بھاری تعداد میں تعینات ہیں، حکام کا دعویٰ ہے کہ فورسز کی کارروائیوں سے جلد ہی بدامنی پر قابو پالیں گی۔اپریل 2026 کے وسط تک احتجاجی مظاہرے، ہڑتالیں اور تشدد کا سلسلہ جاری تھا اور مرکزی حکومت کی مداخلت کے باوجود مفاہمت ممکن نہیں ہوسکی ہے۔گہری نسلی تقسیم، انصاف کے مطالبے اور گورننس اور سیکورٹی کے بارے میں مختلف بیانیوں نے شمال مشرقی ریاست کو شدید کشیدگی کا گڑھ بنادیا ہے ۔بی جے پی کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ کی ریاستی حکومت پر کوکیوں کو بدنام کرنے اوران کے ساتھ متعصبانہ سلوک کرنے اورمیتی قبیلے کی سرپرستی اورحمایت کرنے کا الزام لگا۔مودی حکومت کو مہینوں تک خاموش رہنے اورسست ردعمل دینے ، علاقے کا دورہ نہ کرنے اور صدر راج نافذنہ کرنے پرتنقید کا نشانہ بنایا گیا جسے ناقدین نے ہندو اکثریتی میتی قبیلے کی حمایت کا نتیجہ قراردیا۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی ناکامی سے منی پور میں لاکھوں معصوم انسانوں کی زندگیاں داﺅ پر لگ گئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button