بھارتی لڑاکا طیاروں کے حادثات اس کی فضائی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان
نئی دہلی:بھارت کے فرنٹ لائن فضائی بیڑے میں شامل لڑاکا طیاروں کو پیش آنے والے حادثات کے باعث اس کی فضائی صلاحیتیں ایک بار پھر زیر بحث ہیں جس سے بھارتیفضائیہ (IAF) میں آپریشنل تیاری اور حفاظتی معیارات پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جمعہ کی رات (17 اپریل 2026)کو ایک سکھوئی ایس یو 30 ایم کے آئی لڑاکا طیارہ مہاراشٹر کے پونے ایئر فورس اسٹیشن (لوہیگاو¿ں) پر لینڈنگ کے بعدگیئر میں خرابی کا شکار ہوگیا۔ طیارہ رن وے پر پھنس گیا اور حکام کو پونے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آپریشن معطل کرنا پڑا اور 30 سے زائد سویلین پروازوں میں خلل پڑا۔ یہ واقعہ رواں سال سکھوئی ایس یو 30 ایم کے آئی بیڑے میں شامل طیاروں کوپیش آنے والا دوسراحادثہ ہے۔ اس سے قبل 5 مارچ 2026 کو آسام کے کربی انگلونگ ضلع میں جورہاٹ ایئر فورس اسٹیشن سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ایسا ہی طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں دو پائلٹ اسکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹیننٹ پورویش دورگکر ہلاک ہوگئے تھے۔دفاعی تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ میں شمولیت کے بعد سے سکھوئی طیاروں کو متعدد بڑے حادثات پیش آئے جس سے دیکھ بھال کے معیار اور تکنیکی اعتبار کے حوالے سے مسلسل سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت کے پاس اس طرح کے 260 سے 272 لڑاکا طیارے ہیںجو اس کی فضائی جنگی صلاحیت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم بار بار تکنیکی مسائل پیش آنے کی وجہ سے بیڑے کاایک حصہ ناقابل استعمال بن گیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات بھارتی فضائیہ کو درپیش وسیع چیلنجزکو نمایاں کرتے ہیں جن میںدیکھ بھال کے مسائل، آپریشنل دباو¿ اور غیر ملکی پلیٹ فارمز پر انحصار شامل ہیں۔
دریں اثناء بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے رواں ماہ کے شروع میں امریکہکے سرکاری دورے کے دوران امریکی ساختہ F-15EX لڑاکا طیارہ اڑایا ۔ دفاعی حلقے اس دورے کو جدید ایوی ایشن ٹیکنالوجیز کو تلاش کرنے اور واشنگٹن کے ساتھ فوجی تعاون کو مضبوط کرنے کی بھارت کی کوششوں کا حصہ قراردے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بارپیش آنے والے واقعات آپریشنل حفاظت اور بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے تربیت، دیکھ بھال کے طریقہ کار اور بیڑے کے انتظام میں بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔حالیہ واقعات سے بھارتی فضائیہ کی تیاری اور اس کے موجودہ بیڑے کی ساخت کی طویل مدتی پائیداری پر بحث میں تیز ی آئی ہے۔







