بھارت

کرناٹک : طالبات کے حجاب پرپابندی کے خاتمے کا خیرمقدم، مذہبی آزادی کی جانب مثبت قدم قرار

نئی دلی: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس اور جماعت اسلامی ہند نے کرناٹک حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طالبات کے حجاب پر عائد پابندی ختم کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور تعلیمی حقوق کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ پابندی فروری 2022 میں ہندوتوا بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے دور میں نافذ کی گئی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس ایک بیان میں کہاہے کہ تنظیم ہمیشہ جمہوری مکالمے، شہری حقوق کے تحفظ اور پسماندہ طبقات کو قانونی و مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے سرگرم رہی ہے۔ تنظیم نے حجاب پر پابندی سے متاثرہونے والی طالبات کی بھی مدد کی تھی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اقدام ان تمام طلبہ کے وقار کی بحالی ہے جو اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے اپنے مذہبی عقائد اور طرزِ عمل پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی ہند نے اس فیصلے کو مذہبی آزادی، شمولیت اور تعلیم کے بنیادی حق کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسلم طالبات کو درپیش رکاوٹیں کم ہوں گی اور آئینی حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button