نئی دلی میں گزشتہ برس لاپتہ ہونے والا کشمیری نوجوان تاحال واپس گھر واپس نہ پہنچا
اہلخانہ پریشان ، سول سوسائٹی کا اظہار تشویش

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے گزشتہ برس بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لاپتہ ہونے والے ایک کشمیری نوجوان کا تاحال کوئی اتہ پتہ نہ ملنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بارہمولہ سے تعلق رکھنے والا ایک یتیم نوجوان شبیر احمد گزشتہ برس فروری سے لاپتہ ہے۔ وہ عید کی خریداری کے لیے دہلی گیا تھا لیکن تاحال واپس نہیں آیا۔ گوکہ نوجوان کی گمشدگی کے بارے میں دلی کے ایک تھانے میں رپورٹ بھی درج کرائی گئی ہے لیکن تھانے کے عملے کی طرف سے نوجوان کے اہلخانہ کو گمشدگی کی درخواست کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا ۔
سول سوسائٹی کے کارکنوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ لڑکے کی گمشدگی کی مکمل تحقیقات کو یقینی بنائے ۔ انہوںنے کہاکہ غمزدہ اہل خانہ کو مطلع کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ زندہ ہے یا اب اس دنیا میں نہیں ہے تاکہ وہ صدمے سے باہر آ سکیں۔ سوسائٹی کے ارکان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بھی اپیل کی کہ وہ بھارتی ریاستوں میںلاپتہ ہونے والے کشمیریوں کا اتہ پتہ لگانے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔KMS-11/M
جموں: کالج طالبات کا ساتھی طالبہ کی ہلاکت کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
جموں 20اپریل ( کے ایم ایس )بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین (جی سی ڈبلیو)گاندھی نگر جموں کی طالبات نے ایک ساتھی طالبہ کی ہلاکت پر کالج کے باہر احتجاج کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاجی طالبات نے ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔مظاہرے میں طالبات کی ایک بڑی تعداد شریک تھی،جنہوں نے ساتھی طالبہ کی ہلاکت کیخلاف نعرے لگائے اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ۔ چوتھے سمسٹر کی طالبہ انجلی چودھری چند روز قبل کالج جانے کے دوران چلتی بس سے گرنے کے بعد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔احتجاجی طالبات نے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔







