بھارت :غیر مطبوعہ کتاب پر تنازعہ کھڑاکرنا غیر ضروری تھا : جنرل نروانے
نئی دہلی:بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل منوج نروانے نے کہا ہے کہ ان کا حوالہ دیکر غیر شائع شدہ کتاب” فور اسٹارز آف ڈیسٹینی“ کو منظر عام پر لانا غیر ضروری تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جنرل نروانے نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ وہ اس مسئلے سے آگے بڑھ گئے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے دو دیگر کتابیں بھی تصنیف کی ہیں۔ ان کی تازہ ترین کتاب کا عنوان ہے“The Curious and the Classified: Unearthing Military Myths and Mysteries.”۔انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع نے پبلشر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کی کتاب” قسمت کے چار ستارے “ کی اشاعت کو اس وقت تک روکے رکھیں جب تک اس کی جانچ نہیں ہو جاتی۔جنرل نروانے نے کہاجہاں تک میرا تعلق ہے، معاملہ وہیں رک گیا ہے اور میں آگے بڑھ گیاہوں اور یہ اب ایک بند باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مطبوعہ کتاب اور اس کا نام بار بار گھسیٹنا غیر ضروری تھا۔ قسمت کے چار ستارے کے زیر عنوان جنرل نروانے کی کتاب خاص طور پر حساس فوجی امور اور پالیسی فیصلوں کے بارے میں مندرجات منظر عام پر آنے کے بعد تنازعہ پیدا ہواتھا جس کے بعد بھارتی وزارت دفاع نے اس کی اشاعت روک دی تھی۔اس واقعے نے سیاسی اور دفاعی حلقوں کی خاصی توجہ حاصل کی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ جانچ کی ہدایت سے فیصلہ سازی کے عمل میں سیاسی مداخلت کے انکشافات پر پائی جانے والی تشویش کی عکاسی ہوتی ہے۔






