کنٹرول لائن کے اس پار جنازے نے منقسم خاندانوں کے درد کواجاگرکیا
یہ محض ایک میت نہیں بلکہ طویل جدائی، بے بسی اور خاموش چیخیں تھیں
مظفرآباد:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں منقسم کشمیری خاندان کے ایک شخص کی موت اور کنٹرول لائن کے اس پار آزاد جموں و کشمیر میں اس کے عزیزوں کی جانب سے اس کے جنازے کو دیکھنے کے اذیت ناک مناظر نے ایک بار پھر خطے کی تقسیم کی انسانی قیمت کو واضح کر دیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن سے تعلق رکھنے والے 50سالہ راجہ لیاقت خان دل کا دورہ پڑنے کے بعد سرینگرکے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ تاہم اس کی موت اس وقت دلدوز مناظر پیش کرنے لگی جب اس کے بہن بھائی اور دیگر قریبی رشتہ دار جو کئی دہائیوں سے آزاد جموں و کشمیر میں آباد ہیں، صرف کنٹرول لائن کے اس پار سے اس کے جنازے کا مشاہدہ کر سکے۔لیاقت کے والد راجہ اظہار خان 1990 میں اپنی دو بیویوں میں سے ایک اور گیارہ بچوںکے ساتھ آزاد جموں و کشمیر ہجرت کر گئے تھے۔یہ ان سینکڑوں خاندانوںکا حصہ تھے جو اس وقت سرحدی علاقوں میں بھارتی فوجیوں کے جبر سے ہجرت پر مجبور ہو گئے تھے۔ لیاقت اور اس کی والدہ کنٹرول لائن کے دوسری طرف رہے جہاں ان کی پرورش ان کے چچا راجہ شرافت خان نے کی جو ایک ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تھے۔50 سالہ لیاقت کی موت نے علاقے کی طویل تقسیم کی انسانی قیمت کو واضح کیا۔ ان دلدوز مناظر سے سوشل میڈیا پر غم کی لہر دوڑ گئی۔ چار بچوں کے والد لیاقت نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد محکمہ مال میں ملازمت اختیار کی اور وفات کے وقت نائب تحصیلدار کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کے تمام بہن بھائی آزاد جموں و کشمیر میں رہتے ہیں، اہلخانہ نے اسے سرینگر یا کپواڑہ کے بجائے اپنے آبائی گاو¿ں کیرن میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔گاو¿ں کودریائے نیلم دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جو وادی نیلم میں بہت سے مقامات پر کنٹرول لائن کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ہفتے کے روز کنٹرول لائن کے دونوں اطراف خاندا ن کے تمام لوگ دریا کے دونوں کناروں پر جمع ہوئے جو چند گز کے فاصلے پرایک دوسرے کو دیکھ تو رہے تھے لیکن ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیو کلپس میں دیکھا جاسکتاہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںسینکڑوں لوگ دریاکے کنارے پر جنازے میں شریک ہیں۔ایک موقع پر میت کے چہرے سے کفن کو ہٹایاگیا تاکہ کنٹرول لائن کے اس پار عزیزو اقارب آخری جھلک دیکھسکیں۔ ان مناظر سے آزاد جموں و کشمیر میںدکھ اورافسوس کی کیفیت پیدا ہوئی جہاں دریا کے کنارے خاندان کے افراد کی چیخ و پکار گونج رہی تھی۔کیرن طویل عرصے سے تقسیم اور عارضی تعلق کی علامت بنا ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد منقسم خاندان یہاں دریا کے کنارے جمع ہو کر معلومات کا تبادلہ کرتے، ایک دوسرے کو ہاتھ ہلاتے،دریا کے آر پار چیختے اورچھوٹے چھوٹے پتھروں کے ساتھ بندھے خطوط اور چھوٹے پارسل ایکدوسرے کی طرف پھینکتے ہیں کیونکہ اگست 2019 میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے بعد ہرقسم کے رابطے بڑی حد تک ختم ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز جب آزاد جموں و کشمیرمیں مقیم غم سے نڈھال سوگواروں نے ہاتھ ہلائے تو دوسرے کنارے پرموجود لوگوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔مرحوم کے ایک کزن راجہ عارف نے بتایاکہ آپ اس خوف ودہشت کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو وہاں موجود ہے۔ لوگ ہاتھ ہلانے سے بھی گریز کرتے ہیں، اس ڈر سے کہ بعد میں بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔نماز جنازہ پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے کے قریب مقبوضہ علاقے میں دریا کے قریب ایک کھیت میں ادا کی گئی جو کنٹرول لائن کے اس پار سے دکھائی دے رہا تھا، جس کے بعد لیاقت کو گاو¿ں کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔لیاقت کے بھائی راجہ بشارت نے بتایا کیا اس سے بڑی کوئی اذیت ہوسکتی ہے کہ ہم اپنے بھائی کو چند گز کے فاصلے پر تابوت میں دیکھ تو سکتے ہیں لیکن اسے کندھا نہیں دے سکتے؟اس وقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پرگردش کرہی ہیں جہاں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سمیت صارفین نے اسے جموں و کشمیر میں منقسم خاندانوں کی مسلسل تکلیف قراردیا۔معروف کشمیری تجزیہ نگار نائلہ الطاف کیانی نے ایکس پراپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ تابوت کو آخری رسومات کے لیے نہیں بلکہ آخری دیدارکے لیے دریا پر لایا گیا تھا۔انہوں نے لکھاکہ کچھ سرحدیں صرف زمین کو تقسیم نہیں کرتیں بلکہ دلوں کو توڑ دیتی ہیں۔مظفر آباد میں ایک گروپ کی طرف سے چلائے جانے والے فیس بک پیج نے ایک پوسٹر اپ لوڈ کیا جس میں تابوت اور دونوں ا طراف کے سوگواروں کو دکھایا گیا ہے۔یہ محض ایک میت نہیں تھی بلکہ یہ 37 سال کی جدائی، بے بسی اور کنٹرل لائن پر موجودخاموش چیخیں تھیں۔








