شوپیان: مدرسے پر پابندی کشمیریوں کی مذہبی شناخت اور تعلیمی آزادی پر حملہ ہے
سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے ضلع شوپیاں میں جامعہ سراج العلوم پر کالے قانون یو اے پی اے کے تحت پابندی کو ظلم و جبر کا نیا مرحلہ اور کشمیریوں کی مذہبی شناخت اور تعلیمی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سول سوسائٹی کے کارکنوں نے سرینگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہم دینی مدرسے کو غیر قانونی ادارہ قرار دینے سے مذہبی اور تعلیمی اداروں کے خلاف جاری سخت کریک ڈائون اورشہری آزادیوں پر عائد قدغن کی عکاسی ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مذہبی اور تعلیمی مراکز پر بڑھتے ہوئے دبائو کابھی واضح ثبوت ہے، جبکہ مذہبی اداروں کے خلاف سخت غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانو ن یو اے پی اے کے استعمال نے بھی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ کارکنوں نے کہا کہ شوپیان کے مدرسے کے خلاف کارروائی ثقافتی اور مذہبی خود مختاری پرسخت پابندیوں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اداروں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مودی حکومت مذہبی اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے اور بھارتی حکام مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی مبینہ پروفائلنگ کر رہے ہیں، جو مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔سول سوسائٹی کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ ایک بڑے دینی ادارے کو غیر قانونی قرار دینا بھارتی حکومت کے امتیازی اور فرقہ وارانہ رویے کا عکاس ہے اور اس سے مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کے مذہبی عقیدے اور شناخت کو خطرات لاحق ہیں۔








