بھارت

بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت تعلیم کے مقدس پیشے کو بھی اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے

نئی دہلی :بی جے پی کی بھارتی حکومت سکولوں کے نصاب میں قابل اعتراض اور اسلام مخالف مواد متعارف کرارہی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولنا اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جھارکھنڈ میں ایک واضح مثال سامنے آئی ہے، جہاں اسکولوں میں پڑھائی جانے والی ہندی کی نصابی کتاب "ساہتیہ ساگر” میں اسلام کے تئیں غیر حساس مواد موجود ہے جو بچوں پر منفی، مسلم مخالف اثر ڈال سکتا ہے۔
بی جے پی کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ایک نظر ثانی شدہ نصاب نافذ کیا ہے جس میںکشمیر کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مواد کو فروغ دیا گیا ہے۔
مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ بی جے پی/آر ایس ایس سے چلنے والا ہندوتوا نظریہ تعلیم کا استعمال سچائی، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے بجائے تقسیم، عدم برداشت اور غلط معلومات کو آگے بڑھانے کے لیے کر رہا ہے۔تعلیم کا مقصد معاشرے کے مختلف طبقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ نفرت پھیلانا اور دوریاں پیدا کرنا مگر بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت اس مقدس پیشے کو بھی اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button