
پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ میں بعض لمحات ایسے وقع پذیر ہوچکے ہیں جو صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ قومی حافظے کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک باب کو ’’معرکہ حق‘‘ کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے، جسے حکومتی اور سیاسی قیادت نے قومی عزم، یکجہتی اور حوصلے کی علامت سے تعبیر کیا ہے۔تاریخِ پاکستان کا اگر مطالعہ کیا جائے تو 1965 کی جنگ ہو یا 1971 کے بعد کی ازسرنو تشکیل کا دور، یا پھر 1998 کے ایٹمی تجربات کے بعد پیدا ہونے والا خطے کا نیا توازن،ہر مرحلہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان نے اپنے وجود اور دفاع کے سوال پر ہمیشہ اجتماعی شعور کیساتھ دنیا کے سامنے اپنا مضبوط اور موثر بیانیہ پیش کیا ہے۔ اسی تسلسل میں ’’معرکہ حق‘‘ کو بھی ایک ایسے لمحے کے طور پر یاد کیاجا رہا ہے جس میں قومی یکجہتی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
بلا شبہ معرکہ حق پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ یہ صرف تاریخ سازعسکری کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی اجتماعی جدوجہد تھی جس میں قوم نے اپنے اتحاد اور عزم کا عملی مظاہرہ کیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو کمزور سمجھنے کا اندازہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اور قوم نے ہر سطح پر دشمن کے اس تاثر کو ہمیشہ کیلئے زمین بوس کر دیا کہ بھارت طاقت کی بنیاد پر پاکستان کو جھکانے پر مجبور کرے گا۔اگر وسیع تر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا کی کئی اقوام نے اپنی بقا اور خودمختاری کو اجتماعی مزاحمت اور قومی یکجہتی کے ذریعے محفوظ بنایا ہے۔چاہے وہ ویتنام کی جنگ ہو، الجزائر کی آزادی کی تحریک ہو یا جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تاریخ ساز جدوجہد۔ اسی طرح کے تناظر میں پاکستانی قیادت ’’معرکہ حق‘‘ کو بھی قومی عزم کے تسلسل سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔
تاہم ایسے واقعات کو سمجھنے کیلئے ہمیشہ ضروری ہوتا ہے کہ جذبات کیساتھ ساتھ حقائق، تناظر اور مختلف بیانیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے، تاکہ تاریخ کا مطالعہ زیادہ جامع اور متوازن ہو سکے۔یوں ’’معرکہ حق‘‘ ایک ایسا بیانیہ ہے جو صرف فتح کی کہانی نہیں بلکہ قومی حوصلے، اجتماعی شعور اور ریاستی اعتماد کی ایک وسیع تصورپیش کرتا ہے۔22 اپریل2025 جب بیسرن پہلگام جو جنوبی کشمیر کا مشہور سیاحتی مقام ہے ،میں 26 بھارتی سیاحوں کی ایک فالس فلیگ آپریشن میں ہلاکت کے بعد بھارتی حکمرانوں کی جانب سے بھڑکائے گئے جنگی جنون نے نہ صرف برصغیر جنوبی ایشیا ء بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔کیونکہ مودی اور اس کے دوسرے ناعاقبت اندیش حواریوں نے برسوں سے جس جنگی جنون کی آبیاری کی ،06اور07مئی 2025کووہ خود اس جنگی جنون کی آگ کی لپیٹ میں آئے بغیر نہیں رہ سکے۔
06اور07 مئی کی درمیانی رات کو مودی کے بھارت نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد اور کوٹلی کے علاوہ پاکستان کے دل لاہور اور بہاولپور میں مدارس اور مساجد کو حملوں کو نشانہ بناکر جارحیت کا کھلا ارتکاب کیا۔جس کے نتیجے میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت درجنوں افراد شہیداوربیسیوں زخمی ہوگئے۔بھارت نے کمسن بچوں اور خواتین سمیت معصوم افراد کو نشانہ تو بنایا مگر صورتحال مودی کے سامنے ایک بھونچال کی مانند کھڑی تھی۔06 اور07 مئی کی رات کو بھارت اپنے85 سے 90جہاز جن میں 36 رافیل بھی شامل تھے، فضاءمیں بھیج کر پاک فضائیہ کو تہس نہس کرنے کا تہیہ کرچکا تھا۔ مگر اس کائنات کے خالق و مالک کو کچھ اور ہی منظور تھا۔بھارت کے 85سے 90 جنگی جہازوں کے مقابلے میں پاک فضائیہ نے اپنے صرف 47جنگی جہاز ہوا میں بھیج دیئے۔بھارتی ہوا بازوں نے بہت ہاتھ پیر مارنے کی کوشش کی کہ کسی طرح پاک فضائیہ کو مات دی جائے۔فضاء میں یہ لڑائی ایک گھنٹہ جاری رہی ،جو فضائی تاریخ کی طویل ترین جھڑپ قرار دی جارہی ہے۔البتہ 07مئی کی صبح پھو پھوٹتے ہی مودی کی دنیا لٹ چکی تھی اور فرانسیسی کمپنی ڈیسالٹ کے شیئر دھڑا دھڑا عالمی مارکیٹ میں گررہے تھے۔پاک فضائیہ کے شاہین 04 رافیل ،ایک مگ اور ایک30 SU طیارے رات میں ہی گراچکے تھے۔
پنجاب کے شہر بھٹنڈہ میں رافیل طیارہ نہیں بلکہ مودی کی چیتا آگ میں جل رہی تھی۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں ویون پامپور ،پلوامہ،اکھنور اوربانہال میں بھارتی طیاروں سے اٹھتا دھواں اس بات کا اعلان تھا کہ بھارتی جنگی جہاز جن کو تہس نہس کرنے کی غرض سے آئے تھے،وہ فاتح بن کر اللہ تعالی کی کبریائی کا ڈنکا بجا لاچکے تھے۔پوری دنیا کا ذرائع ابلاغ اس بات کا اعلان کررہا تھا کہ مودی کا بھارت چاروں شانے چت ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاک بھارت چار روزہ لڑائی میں ابھی تک گیارہ جہاز تباہ ہونے کا دعوی کرچکا ہے۔
مودی کو 2019 میں اس کااپنا ہی جملہ کاش ہمارے پاس رافیل ہوتے تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی، نہ صرف پیچھا بلکہ بھارت کے غروراور گھمنڈ کے بت کوپاش پاش کرنے کا باعث بن چکا تھا۔مودی نے دوسر ے ہی دن پاکستان میں ناجائز امریکی اولاد اسرائیلی ساختہ ڈرونز کی بھر مار کردی،جنہیں ایک ایک کرکے مارگرایا گیا۔چشم فلک نے یہ نظارہ بھی پہلی بار دیکھا کہ عام پاکستانی شہری اپنی لائسنز یافتہ بندوقوں سے بھارتی ڈرونز پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ جب یہ وار بھی خالی ہوگیا تو بھارت نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے شروع کیے۔اس کے جواب میں مودی کیساتھ جو کچھ کیا گیا،اسے اب پوری دنیا کے تعلیمی اداروں اور فوجی نصاب میں ضرور پڑھایا جائے گا۔دس مئی کی صبح نماز فجر کی ادائیگی کیساتھ ہی پاک افواج نے بھارت پر جوابی وار شروع کیااور چند گھنٹوں میں اس Mythیا افسانے کو ہمیشہ کیلئے زمین بوس کرڈالا کہ بھارت ناقابل تسخیر اور پاکستان اس کے سامنے ایک کمزور ریاست ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر سے لیکر پورے بھارت میں 26 بھارتی فوجی تنصیبات کو زمین بوس کیا گیا۔بھارت کا S 400 ڈیفنس سسٹم پاک فضائیہ نے سپر سونک میزائل حملوں سے ریزہ ریزہ کرڈالا۔جس کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر تھی۔روسی ساختہ S 400کی تباہی کی دیر تھی کہ مودی نے ہاتھ کھڑے کردیئے ،وہ گھٹنوں پر آگیااور امریکی صدر ٹرمپ سے فوری طور پر جنگ بندی کی بھیک مانگی۔پاک افواج کے اس تیر بہدف اور سریع الحرکت اقدام نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔جو ممالک مئی2025 سے قبل پاکستان کو بظاہر کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے،وہ خود بھی پاکستان کی اس تاریخ ساز کامیابی پر انگشت بدندان ہیں۔دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ پاک فضائیہ کے شاہین مودی کے گھر گجرات کے بوج آئیر فیلڈ کو تباہ کررہے تھے اور بھارتی فضائیہ کے تمام جہاز پہلے ہی گروانڈ کیے جاچکے تھے،تاکہ بھارت اور خاصکر مودی کو مزید رسوائی سے بچایا جاسکے۔ایسا صرف ہالی ووڈ کی فلموں میں دیکھا جاسکتا ہے البتہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے عملا کرکے دکھایا ہے۔پاک فضائیہ کے ائیر وائس مارشل اورنگ زیب احمد نے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کے بعد ڈی بریفینگ میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ رافیل تو اچھے فائٹر طیارے ہیں البتہ اڑانے والوں کی تربیت میں کمی ہے۔
بلاشبہ مئی 2025میں پاک افواج نے ایک لیکر کھینچ لی ہے کہ اب بھارت کو اسی زبان میں جواب دیا جائے گا ،جو اس کی سمجھ میں آتی ہے اور یہ ناگزیر بھی تھا۔کیونکہ بھارت جو سائز ،آبادی،افواج اور سامان حرب و ضرب میں پاکستان سے کئی گنا بڑا ملک ہے۔اب اپنی اوقات پر آگیا ہے۔پاک افواج نے مودی کو جو چپیڑیں ماری ہیں ،ان کی گونج آج بھی پورے بھارت میں سنائی دے رہی ہیں اور یہ ناگزیر بھی تھا۔کیونکہ مودی خود کو بھگوان قرار دینے لگا۔معرکہ حق کے بعد اس کی باڈی لینگویج اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔مودی کیساتھ ساتھ امیت شاہ،راجناتھ سنگھ اور اجیت ڈوول کا احتساب بھی ناگزیر ہے کیونکہ یہ پورا ٹولہ اس خطے کو ایٹمی جنگ میں دھکیلنے میں پیش پیش ہے۔اگر اس پورے ٹولے کی گردن زنی نہ کی گئی تو یہ سارے ایک اورمودی ثابت ہوں گے۔بھارتی عوام کو بھی اب اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ جنگی جنون بھڑکانے سے امن و استحکام اور خوشحالی نہیں بلکہ تباہی و بربادی لاتی ہے۔
آج بھارت کے تمام اداروں بشمول بھارتی عدلیہ،بھارتی افواج اور بیورو کریسی میں ہندوتوا نظریہ سرایت کرچکا ہے،جس کی اگر بیخ کنی نہ کی گئی تو بھارت کی آنے والی نسلوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔بھارت کا گودی میڈیا جس نے پورے بھارت اور بھارتی عوام کو یرغمال بنارکھا ہے۔کسقدر بے لگام اور شتربے مہار کی مانند ہوچکا ہے کہ اس نے صرف ایک دن میں بھارتی عوام کو پورے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دکھائے۔آج عا م بھارتی اور نسبتا بہتر ساکھ کے مالک بھارتی تجزیہ نگار اپنے ہی میڈیا کی لعنت و ملامت کررہے ہیں۔ سینئر بھارتی صحافی اور معروف ویب پورٹل دی وائر کے بانی ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن نے نریندر مودی کی قیادت میں کیے گئے آپریشن سندور کو غلط اندازوں پر مبنی ایک خطرناک حکمتِ عملی قرار دیا۔جبکہ بھارت کے سینئر دفاعی تجزیہ نگار پراوین سہانی نے 06اور07 مئی کی رات کو ہی بھارتی رافیل طیاروں کی تباہی کا بھانڈا پھوڑ کر پاک فضائیہ کی برتری کا اعتراف کیا تھا،جس پر مودی حکومت نے دی وائر کیساتھ ساتھ اس کے وی لاگ پر بھی پابندی لگائی تھی۔ یقینا اب مودی کو مر جانا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے مطابق معرکہ حق کے موقع پر قوم کا اتحاد پہاڑوں سے لے کر بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلا ہوا تھا، اور یہی یکجہتی اس کامیابی کی اصل بنیاد بنی۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ سیاسی بیانیے میں اکثر ایسی صورت حال کو محض صرف عسکری کامیابی سے نہیں بلکہ عوامی جذبے اور قومی حوصلے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جو کسی بھی ریاست کی اصل طاقت تصور کی جاتی ہے۔پاکستان ایک امن پسند ملک ضرور ہے، تاہم جب بھی پاکستان کی خودمختاری یا سلامتی پر سوال اٹھے تو اہل پاکستان نے ہمیشہ متحد ہو کر دشمن کو جواب دیا۔مئی 2025میں چند گھنٹوں میں دیے گئے پاکستان کے عسکری ردعمل نے صورتحال کا رخ بدل دیا، جو ریاستی تیاری اور عوامی اعتماد دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔





