پاکستان

امریکہ، ایران بحران نے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا: سردار مسعود خان

اسلام آباد: امریکہ اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں سابق مستقل مندوب سردار مسعود خان نے امریکہ،ایران بحران کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دونوں جانب سے عسکری دباو¿ اور معاشی اقدامات نے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے جہاں معمولی واقعہ بھی بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تنازعہ بیک وقت عسکری، معاشی اور سفارتی محاذوں پر جاری ہے جس کے باعث ثالثی کی کوششیں نہایت پیچیدہ اور حساس صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا اگرچہ ایک ناپائیدار جنگ بندی موجود ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی اور ناکہ بندیوں کے باعث صورتحال بدستور غیر مستحکم ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں اور کسی بھی غیر ارادی تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پابندیوں اوربحری ناکہ بندی کے خاتمے، غیر ملکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کی ضمانتوں سمیت متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں جانب کے سخت مو¿قف فوری پیش رفت میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔سردار مسعود خان نے زور دیا کہ بامعنی پیش رفت کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں، خصوصاً دونوں جانب سے بیک وقت ناکہ بندیوں میں نرمی یا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح پر اعتماد کی بحالی کے بغیر اہم معاملات پر سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے اب بالواسطہ یا پراکسی مذاکرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں جن میں پاکستان فعال کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان پیغامات اور تجاویز کا تبادلہ کرا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کا کردار کم ہو نے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سفارتی چینلز مکمل طور پر فعال ہیں۔انہوں نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین، خلیجی ممالک اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطہ جاری ہے۔ یہ کوششیں مسلسل، متوازن اور پرعزم ہیں جن میں اعلیٰ سطح پر براہ راست روابط اور شٹل ڈپلومیسی شامل ہے۔ مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں مو¿ثر اور فعال ہیں، تاہم حتمی نتیجہ امریکہ اور ایران کی سیاسی قیادت کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ ان کے مطابق بحران کے پائیدار حل کے لیے حقیقت پسندی، تحمل اور باہمی طور پر قابلِ قبول راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے، جبکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتکاری ہی واحد مو¿ثر ذریعہ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button