محبوبہ مفتی کی انسداد منشیات مہم کی آڑ میں بے گناہ خاندانوں کو نشانہ بنانے کی مذمت

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں بلڈوزر کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس مہم کو کشمیری خاندانوں کو معاشی اور سماجی طور پر کمزور کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے بڈگام میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گھروں کو مسمار کرکے بے گناہ افراد کو سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام خواتین، بچوں اور دیگر رشتہ داروں کی تکالیف کا خیال کیے بغیر گھروں کو تباہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو جیل میں ڈالنا چاہیے، لیکن ایسے ملزمان کو رشوت لے کر رہا کرنے والے پولیس اہلکاروں کا احتساب کیوں نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے گھروں کو مسمار کرنے کی مہم کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلڈوزر پالیسی علاقے کے لوگوں میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کر رہی ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ لوگوں نے ان کی پارٹی کو اس امید کے ساتھ ووٹ دیا تھا کہ وہ انہیں جابرانہ پالیسیوں سے بچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ بلڈوزر ماڈل کی حمایت کرتے تو وہ ان کی حکومت منتخب نہ کرتے۔انہوں نے ضلع اسلام آباد میں انسداد منشیات مہم میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں سمیت سرکاری ملازمین، اساتذہ اور طلباءکو صبح سویرے پنڈال پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور کرنا زیادتی اور غیر ضروری مشقت ہے۔پی ڈی پی لیڈر نے انتظامیہ پر بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور سیاسی طرفداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مستحق کشمیری نوجوانوں کو مواقع سے محروم جبکہ بااثر افرادکے ساتھ ترجیحی سلوک کیاجا رہا ہے۔







