میرواعظ کا مقبوضہ جموں وکشمیر میں شراب پر پابندی کا مطالبہ
انسداد منشیات مہم میں معصوم خاندانوں کو نشانہ نہ بنایا جائے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے علاقے میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ نے سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علاقے میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ منشیات کے خلاف جاری مہم علاقائی تعصب پر مبنی نہیں ہونی چاہے اور گھر مسمار کرکے کسی بھی خاندان کو ہراساں نہیں کیاجانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ منشیات اور شراب دونوں معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور حکام ایک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دوسرے پر خاموشی اختیار کرنے کا جواز پیش نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا اگرچہ مقبوضہ جموں وکشمیرایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں سماجی اور مذہبی طور پر شراب نوشی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، لیکن غیر مسلم اکثریت والی متعدد بھارتی ریاستوں نے بھی شراب پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کیونکہ معاشرے پر اس کے مضر اثرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تامل ناڈو میں نئی حکومت کی طرف سے سب سے پہلے اٹھائے گئے اقدامات میں سے ایک قدم شراب کی 700 دکانوں کی بندش ہے۔مقبوضہ علاقے میں شراب پر مکمل پابندی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم اس وقت تک مطلوبہ نتائج نہیں دے گی جب تک کہ شراب کے خلاف بھی کارروائی نہ کی جائے جو خاندانوں کو تباہ کرنے کا اتنا ہی ذمہ دار ہے۔انسداد منشیات کی کارروائیوں کے دوران گھروں کو مسمار کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے کہاکہ جہاں منشیات کی روک تھام ضروری ہے، وہیں بے گناہ خاندان کے افراد کو ہراساں یا اجتماعی سزا کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور مہم کو منصفانہ اور علاقائی تعصب کے بغیر ہونا چاہیے۔ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کے وسیع تر عالمی بحران پر بات کرتے ہوئے میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی امن قائم ہو گا اور صورتحال بہتر ہو جائے گی۔






