بھارت کے نظام انصاف کو نظریاتی ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے از سرنوتشکیل دیا جارہا ہے: رپورٹ

نئی دہلی: بابری مسجد فیصلے کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوتوا کی منطق کو بتدریج قبول کر لیا ہے جس کے نتیجے میںمسلمانوں کے دلائل کو میرٹ پر پرکھنے میں واضح ہچکچاہٹ پیداہوئی تھی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 107 صفحات پر مشتمل رپورٹ نئی دہلی میں جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائینارٹیز (جے ای ایم) کی طرف سے جاری کی گئیجس کا عنوان ہے ”بابری مسجد کے فیصلے کا ایک تنقیدی تجزیہ اور عبادت گاہوں کے قانون 1991 کا مقدمہ“۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ عدلیہ نے ہندو اکثریت کے دعوو¿ں کو تسلیم کرتے ہوئے منظم طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے لیے آئینی ضمانتوں کو کمزور کیا ہے۔رپورٹ کے ابتدائی باب میں کہاگیاکہ بھارتی سپریم کورٹ کو ایک سیکولر ادارہ کہنا ایک چھا بیان توہوسکتا ہے لیکن ایسا تسلیم کرنااتنا ہی مشکل ہے۔ سپریم کورٹ بھارت کی پارلیمنٹ سے کم سیاسی نہیں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے سامنے آنے والے مقدمات میں مسلمانوں کے خلاف تعصب پیدا کیا ہے۔ عدالت نے آہستہ آہستہ ہندوتوا کی منطق کو قبول کر لیا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک جرات مندانہ دعویٰ ہے لیکن جب شواہد مسلسل اس طرف اشارہ کرتے ہیں تو ہمیں حقائق کو واضح طور پر بیان کرنا چاہیے۔رپورٹ میں 1994 کے اسماعیل فاروقی کیس کے فیصلے پر خصوصی توجہ دی گئی جس میں بھارتی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اسلام کے لیے مساجد ضروری نہیں ہیں۔ رپورٹ میں اس فیصلے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں مساجد کو مقدس مقامات کے طور پر تسلیم کرنے کے بجائے انہیں عام املاک قراردیاگیا اور ان کے مذہبی تقدس اور آئینی تحفظ کو چھین لیا۔رپورٹ میں 2019 کے ایودھیا فیصلے پر بھی شدید تنقیدکی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے بابری مسجد کے انہدام کوغیر قانونی قراردینے کے باوجود اس کی زمین کی ملکیت عقیدے کی بنیاد پر ہندو فریق کو دی۔ رپورٹ میںکہاگیا کہ جہاں عقیدے پر مبنی ہندو دعوﺅں کو قانونی طور پر کافی تسلیم کیا گیا، وہیں دستاویزی ثبوتوں اور صدیوں کی مسلسل عبادت پر مبنی مسلمانوں کے دعوﺅں کو غیر ثابت قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔رپورٹ میںگیانواپی اور سنبھل کی مساجد کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا جو چیز تشویشناک ہے وہ یہ ہے کہ جہاں ایودھیا تنازعہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا،وہیںسنبھل چند دنوں میں ہی درخواست دائر کرنے سے تشدد کی طرف چلا گیا۔رپورٹ میں بھارت کی اعلیٰ عدالت پر زور دیا گیا کہ وہ نظریہ ضرورت میں اصلاح کرے، مقدس مذہبی مقامات کے تقدس کو بحال کرے اورآئندہ فرقہ وارانہ تنازعات کو روکنے کے لیے عبادت گاہوں کے قانون 1991 کو مضبوط کرے۔ رپورٹ میں خبردارکیاگیا کہ بھارت آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ نظریاتی ایجنڈوں کو پورا کرنے کے لیے نظام انصاف کی تشکیل نو کی جارہی ہے۔ یہ صرف مساجد کا نہیں بلکہ جمہوری اقدارکا معاملہ ہے۔






