ہمیں اپنی دینی شناخت، ثقافت و اخلاقی اقدارکے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی، میر واعظ
سرینگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ نے کہا ہے کہ ، ہمیں اپنی دینی شناخت، ثقافت، زبان، اخلاقی اقدار اور اپنے روحانی ورثے کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں پر زور دیا ہے کہ وہ معاشرے کی اخلاقی بیداری، اجتماعی ذمہ داری ،شناخت، ثقافت و اقدار کے تحفظ کیلئے کردار اداکریں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق واعظِ عمر فاروق نے ادارہ اوقاف غوثیہ کی جانب سے سرینگر کے علاقے سرائے بالا امیرا کدل میں منعقدہ سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد، خانقاہیں اور امام بارگاہیں صرف نماز ادا کرنے کی جگہیں نہیں بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ اصلاح، تعلیم، رہنمائی اور سماجی تبدیلی کے فعال مراکز کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ اسلامی تاریخ کے دوران ان اداروں نے اخلاقی شعور بیدار کرنے، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور معاشرے کو درپیش سماجی و اخلاقی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب معاشرہ سیاسی، اخلاقی، سماجی اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تو ان عبادت گاہوں کے حقیقی کردار کو دوبارہ زندہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔میرواعظ نے کہا کہ اخلاقی زوال، گھریلو ناچاقی، بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور خاندانی و سماجی رشتوں کی کمزوری جیسے مسائل اجتماعی غور و فکر اور مسلسل سماجی بیداری کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے کہا ہماری مساجد، خانقاہیں اور امام بارگاہیں معاشرے میں مثبت تبدیلی اور اصلاح کا آغاز کرنے کے مراکز بننی چاہئیں۔ انہیں نوجوان نسل کی رہنمائی اور بیداری پیدا کرنی چاہیے، اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانا چاہیے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے دینی اور روحانی اداروں نے ہمیشہ بقائے باہمی، رواداری، روحانیت اور سماجی ذمہ داری جیسی اقدار کو فروغ دیا ہے اور ان روایات کو محفوظ اور مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
میر واعظ فاروق نے حضرت محمد ۖ کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیرت النبی ۖ کو صرف جلسوں اور تقاریر تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ اس کی تعلیمات کو انفرادی کردار اور اجتماعی سماجی رویوں میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ۖ نے عدل، رحم، دیانت، جوابدہی اور انسانیت کی خدمت پر مبنی ایک مثالی معاشرہ قائم کیا تھا اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ دور میں انہی اصولوں کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی کوشش کریں۔







