بھارتی سپریم کورٹ کاعمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار
نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق اسٹوڈنٹس لیڈروں عمر خالد اورشرجیل امام کی ضمانت مسترد کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیاہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس بی وی ناگرتھنا اور اجول بھویان پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے ایک مقدمے سماعت کے دوران کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ بنچ کی طرف سے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے کا فیصلہ ”یونین آف انڈیا بمقابلہ کے اے نجیب”کیس میں طے شدہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔عدالت نے کہاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانو ن ”یو اے پی اے”کے کیسز میں بھی ضمانت ایک ضابطہ اور جیل ایک استثنیٰ ہونا چاہیے ۔عدالت نے مزید کہا کہ کالے قانون یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5)کے تحت ضمانت پر قانونی پابندی ایک محدود پابندی ہونی چاہیے، جو آئین کے آرٹیکل21(زندگی کا حق) اور 22(گرفتاری سے تحفظ)کے تحت ملنے والی ضمانت کے دائرہ کار میں کام کرے۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یو اے پی اے کے تحت بھی ضمانت کا قاعدہ موجود ہے ۔ تاہم کسی خاص کیس کے حقائق اور حالات کی بنیاد پر ضمانت سے انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کے موجودہ بنچ نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی عدالت سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے طے شدہ قانونی اصول کو کمزور یا نظر انداز نہیں کر سکتی۔







