مقتولہ کو انصاف فراہم کرنے کے لئے وہ پھرتی کہاں ہے جو اختلاف رائے کو دبانے کے لیے دکھائی جاتی ہے: آغا روح اللہ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے ریاستی اداروں کی ترجیحات اور ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی پولیس علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے جس طرح پھرتی کا مظاہرہ کرتی ہے،بڈگام میں کمسن بچی کی بے حرمتی اورقتل کے بعد مقتولہ کو انصاف فراہم کرنے میں اس طرح کی پھرتی نظر نہیں آتی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق روح اللہ مہدی نے یہ بات بڈگام کے علاقے گلوان پورہ میں متاثرہ خاندان سے ملاقات کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون پر عملدرآمد اور متاثرہ خاندان کو جلد انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ روح اللہ نے کہاکہ یہ واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور پولیس، عدلیہ اور حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین پر سختی سے عملدرآمدکرائیں اور مجرموں کوسخت سزا دلوائیں۔انہوں نے کہا کہ ان اداروں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس طرح پولیس اختلاف رائے کو دبانے اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین کو لاگوکرنے میں پھرتی دکھاتی ہے،اس طرح کا عزم اورپھرتی معصوم اور کمزور متاثرین کے معاملات میں کہاں جاتی ہے۔روح اللہ نے امید ظاہر کی کہ متاثرہ کے والدین کو انصاف ملے گا ۔ انہوں نے حکام پر زوردیاکہ وہ کیس کو جلد از جلد حل کریں اور ذمہ داروں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔انہوں نے کہا کہ اس ہولناک سانحے نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کردیا۔







