سرینگر:تاریخی جامع مسجد اورعیدگاہ میں عید الاضحی کی نماز کے اجتماعات پر پابندی
میر واعظ عمر فاروق گھر میں نظر بند ، نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی

سرینگر: غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے آج ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کو تاریخی جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دلی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت انتظامیہ نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پرسرینگر میں جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز عیدکے اجتماعات پرپابندی عائد کر دی۔اگست 2019میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے بھارتی قابض انتظامیہ نے جامعہ مسجد اور عیدگاہ میں نماز عید کے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ مسلسل آٹھواں سال ہے جب قابض انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کو سرینگر کے دونوں تاریخی مذہبی مقامات پرنماز عید کے اجتماعات منعقد نہیں کرنے دیے۔
ادھر قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما، میر واعظ عمر فاروق کو نماز عید اداکرنے سے روکنے کیلئے گھر میں نظربند کردیا۔ میرواعظ نے ایک بیان میں گھر میں نظربندی اور نماز عید کی امامت سے روکنے کے بھارتی قابض انتظامیہ کے فیصلے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیاہے۔ گزشتہ روز منگل کوبھی قابض انتظامیہ نے میرواعظ عمر فاروق کو اغوا اور بے حرمتی کے بعد قتل کی گئی کم عمر بچی کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے بڈگام جانے سے روکنے کیلئے سرینگر کے علاقے نگین میں واقع ان کی رہائش گاہ تک محدود کر دیاتھا۔
دریں اثناء سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے قابض انتظامیہ کی انتقامی کارروائیوں کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکشمیرمیڈیاسروس کو بتایاہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے:کشمیری مسلمانوں کو جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور کشمیریوں کو مسلسل 8ویں سال بھی جامع مسجدسرینگر میں داخل نہیں ہونے دیاگیا۔انہوں نے مزید کہاکہ مسلم اکثریتی خطے جموں وکشمیر میں، مسلمان عید جیسے اہم مذہبی تہواروں پر نمازادا کرنے کے اپنے بنیادی حق سے محرو م ہیں ۔ KMS






