مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر : جامع مسجد اور عیدگاہ میں مسلسل 8ویں سال بھی نماز عید کے اجتماعات پر پابندی

میرواعظ گھر میں نظربند ، راجوری میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی پانچویں دن بھی جاری رہی

سرینگر: غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے آج ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ یہ مسلسل آٹھویں سال ہے جب سرینگر کے دونوں تاریخی مذہبی مقامات پرنماز عید کے اجتماعات منعقد نہیں ہوئے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جامع مسجد اور عید گاہ میں نماز عید کے اجتماعات پر پابندی بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پر لگائی گئی۔ اگست 2019 سے جب بی جے پی کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر دی تھی، جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز عید کے اجتماعات پر مسلسل پابندی عائد ہے۔
قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کوایک با ر پھر گھر میں نظر بند کرکے نماز عید کی امامت سے روک دیا۔ انہوں نے قابض انتظامیہ کے اس فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید کے اس پرمسرت موقع پر کشمیری مسلمانوں کورکاوٹیں، پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ گزشتہ روز منگل کو قابض انتظامیہ نے میر واعظ کو اغوا اور بے حرمتی کے بعد قتل ہونے والی کم عمر بچی کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیلئے بڈگام جانے سے روکتے ہوئے گھر تک محدود کر دیاتھا۔
مسلسل پابندی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے، سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکشمیرمیڈیاسروس کو بتایاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے:کشمیری مسلمانوں کو جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہاکہ مسلم اکثریتی خطے جموں وکشمیر میں، مسلمان عید جیسے اہم مذہبی تہواروں پر نمازادا کرنے کے اپنے بنیادی حق سے محرو م ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ منتخب نمائندے کشمیریوں کے مذہبی اور جمہوری حقوق کی پامالی پر مسلسل خاموش ہیں ۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے میر واعظ عمر فاروق پر مسلسل پابندیوں کو مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایاجاتا ہے۔سرینگرمیں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اس طرح کی پابندیاں اب ایک معمول بن چکی ہیں۔ محبوبہ مفتی نے مقبوضہ کشمیراور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طورپرقید ہزاروں کشمیری نظربندوں کی حالت زار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
دریں اثنا، ضلع راجوری کے علاقوں گمبھیر موگلہ اور ڈوریمل میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی بڑی کارروائی آج مسلسل پانچویں روز بھی جاری رہی ۔ بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس اہلکاروں نے ہفتہ کے روز یہ کارروائی شروع کی تھی۔ بھارتی فورسز ہیلی کاپٹر، ڈرون اور سراغرساں کتوں کا استعمال کر رہی ہیں جس سے مقامی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ان علاقوں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ قریبی دیہات کامحاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کاسلسلہ جاری ہے۔ میڈیا کو متاثرہ علاقوں تک رسائی نہیں دی جارہی ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button