بھارت

راجستھان :یکساں سول کوڈ کے نفاذ پر مسلم تنظیموں اور مذہبی رہنمائوں کی کڑی تنقید

جے پور:بھارتی ریاست راجستھان میں بی جے پی حکومت نے یکساں سول کوڈ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس نے ریاست میں 2024 میں یو سی سی کے نفاذ کے بعد نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بی جے پی کی ریاستی حکومت نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا مقصد تمام شہریوں کے لیے شادی، طلاق اور وراثت سے متعلق ی قوانین میں یکسانیت لانا ہے۔ تاہم مسلم تنظیموں اور مذہبی رہنمائوں نے اس اقدام کی سختی سے مخالفت کی ہے اور خدشہ ظاہرکیاہے کہ اس سے مذہبی آزادی اور ذاتی قوانین کے لیے آئینی تحفظات متاثر ہوں گے۔ درگاہ اجمیر شریف کے سید سرور چشتی نے سوال کیا کہ کیوں قبائلی برادریوں کو یکساں سول کوڈ سے استثنی برقرار رکھا گیاہے جبکہ مسلمانوں پر جبری طورپر اس کوڈ کو لاگو کیاگاہے ۔ انہوں نے بی جے پی پر سماجی تقسیم کومزید بڑھانے کا الزام عائد کیا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا عبید اللہ خان نے کہا کہ مسلم پرسنل لاز مذہبی شناخت کا حصہ ہیں اور انہیں مشاورت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔کانگریس قائدین نے سول کوڈ کے نفاذ کے وقت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو اس کے بجائے ملازمتوں اور مہنگائی میں کمی پر توجہمرکوز کرنی چاہیے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button