بھارت اس وقت تباہی کے آخری نشان کو چھو رہا ہے، مولانا ارشد مدنی

نئی دلی : جمعیت علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے ملک کے حالات اس وقت انتہائی تشویش ناک ہے ، آئین اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے اور اقتلیوں خاص طور پر مسلانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مولانا ارشد مدنی نے تنظیم کی ریاست اترا کھنڈ کی مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امتیاز ، ناانصافی اور نفرت کا سلسلہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے اور اقتدار میں بیٹھے لوگ خود کو ہی قانون سمجھنے لگے ہیں اور آمریت انکے مزاج کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ دستور کی روح کو مجروح اور جمہوری اداروںکو کمزور کیا جارہا ہے اور بھارت تباہی کے آخری نشان کو چھو رہا ہے جس کے سنگین نتائج پورے ملک کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بلڈوزر آج انصاف کا نہیں بلکہ انتقام ، تعصب اور نفرت کی سیاست کی علامت بن چکا ہے ، قانون اور عدالتوںکو نظر انداز کر کے لوگوں کے گھروں ، دکانوں اور عبادتگاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور دستور کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جن مدارس اور مساجد پر آج بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں انہی اداروں کے علماءنے انگریز استعمار کے خلاف سب سے پہلے 1803میں جہاد آزادی کا فتویٰ دیا تھا اور پھر اسکے نتیجے میں جنگ آزادی کے متوالوں نے تحریک آزادی کی قیادت کی اور انگریزوں کی غلامی سے آزادی کے لیے اپنی جانیں قرباں کیںلیکن افسوس آج انہی اداروں کو تعصب اور نفرت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے حکومت کی طرف سے فرقہ پرستوں کی کھلی حمایت اور قانونی اداروں کی خاموشی کی وجہ سے جس طرح نفرت کی سیاست کو بڑھاوا ملا ہے اس سے ان صدیوں پرانی اقدار کو شدید نقصان پہنچا ہے جو ہمارے ملک کی پرانی تہذیب اور روایات کا حصہ رہی ہیں ۔ مولانامدنی نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ آج مسلمانوں سے حب الوطنی اور وفاداری کی سند وہ لوگ مانگ رہے ہیں جن کے پرکھوں کے بارے میں تاریخ میں انگریز حکومت سے معافی نامے اور مصالحت کے واقعات درج ہیں جبکہ مسلمانوں اور انکے اکابرین نے ملک کی آزادی کیلئے قربانیاں دیں ، جیلیں کاٹیں اور جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔
ا نہوںنے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں صبر ، حسن اخلاق ، محبت ، رواداری اور امن کا راستہ اختیار کریں اور کسی نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ اپنے بہترین کردار ، اپنے اخلاق اور اپنے حسن سلوک سے دیں کیونکہ اسلام انسانیت ، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے۔






