” او آئی سی “ کا کشمیر کاز، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ

نیویارک،: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ میں” او آئی سی“ کے مستقل مبصر Hameed Ajibaiye Opeloyeru، ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی اور کشمیر مشن یو ایس اے کے سینئر وائس چیئرمین سردار تاج خان کے درمیان نیویارک میں ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران یو این میں اور آئی سی کے مستقل مبصر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کے پرامن حل کے لیے او آئی سی کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے حصول اور کشمیری عوام کے حقوق اور امنگوں کے تحفظ کے لیے کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔
او آئی سی کے ایلچی نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی تجاویز کو او آئی سی ہیڈ کوارٹر تک پہنچایا جائے گا اور عراق میں او آئی سی کشمیر رابطہ گروپ کے آئندہ اجلاسوں اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ان پر غور کیا جائے گا۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی نے او آئی سی کے نمائندے کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادیاتی تبدیلیاں، جسے انہوں نے آبادکار ی کے نوآبادیاتی منصوبے کے طور پر بیان کیا، کشمیری عوام کی شناخت اور مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے شہری آزادیوں پر پابندیوں، بلا جواز حراستوں اور اظہار رائے کی آزادی کے حق پر پابندیوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ سوشل میڈیا پر بھارتی فوج یا حکومت پر تنقید بھی حراست اور گمشدگی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر ی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملددرآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بھارت اس کی پاداش میں انہیں بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیوںکا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری کشمیر کی صورتحال سے لاتعلق رہنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ڈاکٹر فائی نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مسلسل اجاگر کرنے اوراقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کمیشن پر زور دیا کہ وہ کشمیر پر باضابطہ سماعت کرے اور آزاد ماہرین اور کشمیری نمائندوں کو مدعو کرے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازعہ دنیا کے طویل ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے لہذا اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے مزید فعال کردار اداکرے۔سردار تاج خان نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، صوفی فہمیدہ، ناہیدہ نسرین سمیت کشمیری سیاسی قیدیوں کا مسئلہ بھی اٹھائے۔







