سرینگر میں محکمہ جنگلات میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں کا احتجاج

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں محکمہ جنگلات میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں نے سرینگر میں قابض حکام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہیں مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرکاری ملازمتوں کی آوٹ سورسنگ پر جاری تنازعے کے دوران محکمہ جنگلات کے 1300 سے زائدیومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو بھی نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ ڈیلی ویجرز 2004 سے محکمے میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مستقلی (ریگولرائزیشن) کے منتظر ہیں۔ان کارکنوں کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ 18 جون کو چیف سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں لیا گیا۔ورکروں نے اس فیصلے کے خلاف سرینگر میں چیف وائلڈ لائف وارڈن کے دفتر کے باہر غیر معینہ مدت کا احتجاج شروع کر دیا ہے۔ احتجاج میں شریک ایک کارکن منظور احمد بٹ نے کہا کہ انہیں 2004 سے محکمہ جنگلات اور اس کے ذیلی اداروں میں کام پر رکھا گیا تھا اور مختلف حکومتوں اور افسران نے بارہا انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔انہوں نے کہاہمیں یہ جان کر شدید صدمہ پہنچا ہے کہ اب محکمہ ہمیں نجی کمپنیوں کے حوالے کر رہا ہے، جس سے ہمارا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔ نجی کمپنی ایک سال بعد ہمیں نکال سکتی ہے۔ ہم مستقلی کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن اب برسوں خدمت انجام دینے کے بعد ہمیں باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔منظور احمد بٹ نے کہاکہ ہم نے محکمہ جنگلات کے وزیرسے بھی ملاقات کی، وزیر اعلیٰ کے دفتر بھی گئے۔ ہمیں حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی، لیکن صرف ایک ماہ بعد ہمیں نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔مقبوضہ علاقے میںسرکاری محکموں میں آوٹ سورسنگ کا معاملہ اب ایک بڑا سیاسی تنازعہ بن چکا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران قابض حکام نے 29 محکموں میں 22,454 ملازمتیں 200 سے زائد نجی کمپنیوں کے ذریعے آوٹ سورس کی ہیں۔







