مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر میں پانی کی شدید قلت کے خلاف خواتین کا احتجاجی مظاہرہ

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سرینگر کے علاقے بسنت باغ کی خواتین نے پینے کے پانی کی قلت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قلت ایک سال سے جاری ہے اور گرمی کی لہر کے دوران مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روزانہ مختلف مقامات سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بسنت باغ میں پانی فراہم نہیں کیا جارہا اورہمیں دن رات مشکلات کا سامنا ہے۔گرمی کی لہرسے صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے ۔ مظاہرین نے کہاکہ مردنہانے کے لئے مسجدکے حمام میں جاسکتے ہیں لیکن خواتین کہاں جائیں گی۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو بارہا درخواستیں دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بار بار چیف انجینئر سے رابطہ کیاجنہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ پانی کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔مظاہرین نے پانی کی باقاعدہ سپلائی فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یا تو اس مسئلے کو حل کرے یا ہمیں دوسری جگہ منتقل کرے۔ انہوں نے بجلی کی ناقص فراہمی کی بھی شکایت کی اور کہا کہ جڑواں مسائل نے زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button