میرواعظ کی بھدرواہ میں بے گناہ شہری کے قتل کی مذمت کی، تحقیقات کا مطالبہ
بہیمانہ قتل کے خلاف ضلع بھر میں احتجاجی مظاہرے، انٹرنیٹ سروسز معطل

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھدرواہ میں ایس او جی اہلکاروں کے ہاتھوں 30 سالہ شہری عارف حسین کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میرواعظ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ وہ بھدرواہ سے آنے والی خبروں سے بے حد پریشان اور تکلیف میں ہیں۔قتل کے خلاف علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے بعد پورے ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی۔میرواعظ نے کہا کہ میری دعائیں سوگوار خاندان اور اس کی جوان اور حاملہ بیوہ کے ساتھ ہیں جو اپنے شوہر کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج میں شامل ہوئیں۔ حریت رہنما نے اس واقعے کو گاندربل میں رشید احمد مغل کے حالیہ قتل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاںانسانی اور شہری حقوق اور قانون کے تمام اصولوں کے منافی ہیںاور لوگوں میںخوف ودہشت اور عدم اعتماد کو مزید گہراکرتی ہیں۔میر واعظ نے دونوں واقعات کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔عارف حسین کے قتل کے خلاف بھدرواہ میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے اور حکام نے اس کے بعد ضلع میں انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں۔






