APHC-AJK

پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھائے: محمودساغر

اسلام آباد:جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساگر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان پر زور دیاہے کہ وہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم ، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمود احمد ساغر نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو علیحدہ علیحدہ خطوط ارسال کیے اور بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ علاقے میں جاری وسیع پیمانے پر کریک ڈاون، تین ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریوں، رہائشی مکانات اور نجی املاک کی مسماری اور شہری آبادی کو اجتماعی سزادینے کی پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور بھارت کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کا پابند بنانے کے لیے فوری عالمی مداخلت ناگزیر ہے۔محمود احمد ساگر نے کہا کہ بلاجواز گرفتاریاں، مکانات کی مسماری اور اجتماعی سزا کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور یہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مظالم کا فوری نوٹس لے اور بھارت پر دباو ڈالے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنا جابرانہ طرزِ عمل ختم کرے۔محمود ساغرنے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی قیادت کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت مزید موثر انداز میں جاری رکھے گی اور عالمی برادری کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت پر آمادہ کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کرے گی۔انہوںنے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور بااثر عالمی طاقتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی جبر، من مانی گرفتاریوں اور شہری املاک کی مسماری رکوانے کے لیے موثر کردار ادا کریں اور مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button