کیرالہ کی خواتین ارکان اسمبلی کا ہندی زبان کے استعمال پر نیشنل کمیشن فار ویمن ورکشاپ سے واک آئوٹ
بھارت یک لسانی ریاست نہیں، کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کی ہندی زبان مسلط کرنے پر کڑی تنقید
نئی دہلی: بھارتی ریاست کیرالہ کی خواتین ارکان اسمبلی نے فریدآباد میں نیشنل کمیشن فار ویمن کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ قومی ورکشاپ سے ہندی زبان کے خصوصی استعمال اور غیر ہندی بولنے والی شرکا کے لیے ترجمے کی سہولت نہ ہونے پر واک آئوٹ کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیسن نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مختلف لسانی روایات کا اتحاد ہے، کوئی یک سنگی ریاست نہیں، مختلف لسانی روایات کا اتحادہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے فورمز پر لسانی یکسانیت(ہندی کو) مسلط کرنے کے بجائے باہمی احترام، مساوات اور آئینی اصولوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ورکشاپ کا عنوان تھا”She Is a Changemaker” ،جس کا افتتاح لوک سبھاکے اسپیکر اوم برلا نے کیا۔ اس ورکشا پ کا مقصد خواتین قانون سازوں کو قانون سازی اور پارلیمانی امور سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا تھا، تاہم کیرالہ کے وفد نے ورکشاپ سے احتجاجا واک آئوٹ کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیشنز ہندی میں ہونے کے باعث وہ کارروائی میں موثر طور پر حصہ نہیں لے سکیں۔کیرالہ کی وزیر بندھو کرشنا نے اس موقع پر کہا کہ وفد بڑی توقعات کے ساتھ ورکشاپ میں شریک ہوا تھا اور انہیں امید تھی کہ نئی قانون سازی، قوانین کے نفاذ اور قانون سازوں کے کردار سے متعلق معلومات اور رہنمائی حاصل ہوگی۔ تاہم انہوں نے کہاکہ اگرچہ پوسٹرز اور دیگر مواد انگریزی میں تھا، لیکن تمام کلاسز ہندی میں منعقد کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والے شرکا ہندی کو کچھ حد تک سمجھ سکتے ہیں، تاہم اس میں موثر انداز میں جواب دینا مشکل تھا۔ وفد نے انگریزی کو بھی ساتھ استعمال کرنے کی درخواست کی، لیکن ان کے بقول اس درخواست پر توجہ نہیں دی گئی۔سیشن کے دوران، کیرالہ کے ڈپٹی اسپیکر شانمول عثمان نے کہاکہ کیرالہ کا وفدہندی زبان میں سیشن کی کارروائی سمجھ سکتا ہے ،لہذا سیشن میں انگریزی میں بھی بات کی جانی چاہیے۔ تاہم ان کی بات پرکسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔کیرالہ کی خواتین ارکان اسمبلی نے یہ شکایت بھی کی کہ ورکشاپ میں شرکا کا باقاعدہ تعارف نہیں کرایا گیا اور نہ ہی انہیں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا گیا۔ ان کے مطابق دوسرے روز کے سیشنز میں قانون سازی کے بجائے پولیس میں شکایت درج کرانے، ایمبولینس طلب کرنے اور سیلف ہیلپ گروپس جیسے موضوعات پر زیادہ توجہ دی گئی۔وفد نے خواتین کے لیے ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں 33فیصد نشستوں کی ریزرویشن کے قانون کے نفاذ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ بندھو کرشنا نے کہا کہ مقامی حکومتوں میں خواتین کی نمائندگی کے لیے 73ویں اور 74ویں آئینی ترامیم اہم پیش رفت تھیں جبکہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن کے قانون کے نفاذ کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ورکشاپ کے دوران بعض ہندی بولنے والے شرکا کی جانب سے مبینہ طور پر ہندی کو قومی زبان قرار دینے کے دعوئوں اور ”بھارت ماتا کی جے ”کے نعرے لگانے پر صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ کیرالہ کی خواتین ارکان اسمبلی کے وفد نے جواباًً”آئین کی پاسداری، بھارت کے لسانی تنوع کا احترام” کے نعرے لگائے۔کیرالہ کی رکن اسمبلی فاطمہ تہلیہ نے کہا کہ وفد ہندی کا احترام کرتا ہے، تاہم ملک بھر سے قانون سازوں کو مدعو کرنے والے قومی پروگرام میں زبان کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجمے یا انگریزی زبان میں بھی سہولت فراہم کی جانی چاہیے تھی۔رکن اسمبلی کے کے ریما نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار ویمن کی چیئرپرسن کو نعروں کے باعث پیدا ہونی والی صورتحال میں مداخلت کرنی چاہیے تھی، جبکہ اوما تھامس نے کہاکہ ورکشاپ کیلئے منصوبہ بندی ناقص تھی اورشرکا کے درمیان مناسب تعارف اور باہمی رابطے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔وزیر اعلی وی ڈی ستھیسن نے کہا کہ غیر ہندی بولنے والی ریاستوں سے آنے والے نمائندوں پر ہندی مسلط کرنا اور انہیں دبائو میں لانا بھارت کے آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی طاقت لسانی یکسانیت میں نہیں بلکہ ”تنوع میں اتحاد” میں ہے۔ ان کے بقول مختلف زبانیں، ثقافتیں اور شناختیں ملکی وحدت کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط کرتی ہیں۔ستھیسن نے زور دیا کہ بھارت مختلف لسانی روایات کا اتحاد ہے، کوئی یک سنگی ریاست نہیںاور قومی فورمز پر لسانیت مسلط کرنے کے بجائے باہمی احترام، شمولیت اور آئینی مساوات کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ورکشاپ میں شرکت کرنے والے کیرالہ کے وفد میں ڈپٹی اسپیکر شانمول عثمان، وزرا بندو کرشنا اور کے اے تھلسی اور ایم ایل اے کے کے ریما، فاطمہ تہلیہ، ودیا بالاکرشنن، اوما تھامس اور اوشا وجین شامل تھے۔








