مقبوضہ جموں وکشمیر میں صحافت کو شدید ریاستی جبر کا سامنا ہے، حریت کانفرنس
علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق مکمل طور پر سلب ہے، ترجمان
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ علاقے میں زمینی حقائق کو بے نقاب کرنے کی پاداش میں صحافت کو شدید ریاستی جبر کا سامنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی حکومت علاقے میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ، اس نے علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی علاقے میں بھارتی جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے ، اسے ”پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے“ جیسے کالے قوانین کے تحت فوراً سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتاہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد علاے میں ایک نئی میڈیا پالیسی نافذ کر دی ، اس پالیسی کے تحت صحافیوں کووہی مواد شائع یانشر کرنے کا پابند بنا دیا گیا ہے جسے علاقے کا محکمہ اطلاعات پیشگی منظور ی دی جا چکا ہو۔ علاقے میں مقامی پریس سخت کنٹرول، خوف اور دھمکیوں کے سائے میں کام کر رہا ہے۔ حریت کانفرنس کے بیانات کو بھی روزنامہ اخبارات میں شائع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
حکام رپورٹروں کو تھانوںمیں طلب کرتے ہیں، ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں اور انہیں ایسے حلف ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن میں انسانی حقوق کے مسائل پر رپورٹنگ نہ کرنے یا حکام کے خلاف تنقیدی خبریں شائع نہ کرنے کا وعدہ لیا جاتا ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان کہا کہ فوجی کارروائیوں یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں حقائق پر مبنی رپورٹیں شائع کرنا اب علاقے میں جرم سمجھا جاتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں پہلے ہی مقامی لوگوں اور نامہ نگاروں کا ذاتی ڈیٹا، موبائل ڈیوائس کی تفصیلات اور مذہبی و خاندانی پس منظر اکٹھا کر چکی ہیں۔ حکام نے صحافیوں کے پاسپورٹ بھی ضبط کر لیے ہیں تاکہ انہیں سفر کرنے یا بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ زمینی حقائق شیئر کرنے سے روکا جا سکے۔ترجمان نے کہا کہ بی جے پی حکومت پریس کی آزادی کے بنیادی اصولوں کو پامال کر رہی ہے جسکا بنیادی مقصد مودی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔ترجمان نے کہا کہ مقامی میڈیا ادارے بڑی حد تک سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتے ہیںاور یہ اشتہارات ان ہی اخبارات کو دیے جاتے ہیں جوبھارتی پالیسی پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔






