مضامین

کشمیری قیادت کا اردوان و اسحاق ڈار کی بھرپور سفارتی آواز پر اظہارِ تشکر

شہباز شریف کے خطاب سے وابستہ امیدیں

ارشد میر

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ایسے وقت میں جاری ہے جب دنیا ایک طرف جنگوں، علاقائی کشیدگی اور عالمی عدم استحکام کے نئے چیلنجوں سے دوچار ہے اور دوسری طرف جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازع ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس کی عمومی بحث 22 سے 26 ستمبر تک جاری ہےجبکہ عالمی رہنماؤں کی آمد کے ساتھ نیویارک اس وقت بین الاقوامی سفارت کاری کا سب سے اہم مرکز بنا ہوا ہے۔

اسی ماحول میں ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے جنرل اسمبلی کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا ایک بار پھر واضح حوالہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ صدر اردوان نے جنوبی ایشیا میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ان کا یہ مؤقف محض پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی فورم پر سامنے آیا جہاں دنیا کے تقریباً تمام ممالک موجود ہیں اور جہاں تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کے اصول زیر بحث رہتے ہیں۔

اسی لیے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت نے اردوان کے خطاب کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کی امنگوں کی ترجمانی قرار دیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس اور اس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے علاوہ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بھی ترک صدر اور عوامِ ترکیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو اجاگر کرنا اس امر کی یاد دہانی ہے کہ یہ تنازع محض پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ معاملہ نہیں بلکہ ایک دیرینہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سب سے اہم سفارتی پیش رفت او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا وزارتی اجلاس ہے۔ 22 ستمبر کو نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، آذربائیجان اور نائجر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ او آئی سی رابطہ گروپ نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کا تعلق مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل سے ہے۔

اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں محض روایتی اظہارِ یکجہتی تک محدود رہنے کے بجائے مقبوضہ علاقے کی سیاسی، انسانی حقوق اور آبادیاتی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں بھارتی اقدامات، سیاسی گرفتاریوں، سیاسی جماعتوں پر پابندیوں، آبادیاتی تبدیلیوں، املاک کی ضبطی اور مذہبی و سیاسی آزادیوں پر پابندیوں سمیت متعدد امور پر تشویش ظاہر کی گئی۔ او آئی سی نے بھارت پر سیاسی قیدیوں کی رہائی، کالے قوانین کے خاتمے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے زور دیا۔

یوں نیویارک میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک اہم سفارتی تسلسل سامنے آیا،ایک طرف ترکیہ کے صدر نے جنرل اسمبلی کے مرکزی پلیٹ فارم سے تنازع کا ذکر کیا، دوسری طرف او آئی سی کے رابطہ گروپ نے باقاعدہ وزارتی اجلاس میں اسے زیر بحث لایا اور تیسری طرف کشمیری نمائندے نے براہ راست اسلامی ممالک کے نمائندوں کو زمینی صورتحال سے آگاہ کیا۔

اس سفارتی سرگرمی کو مزید تقویت پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے خطاب سے ملی۔ انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اس کی اصولی یکجہتی کو مستقل اور مؤثر سفارتی اقدام میں تبدیل کیا جائے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر متحدہ مؤقف برقرار رکھا جائے۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ کشمیر اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود بین الاقوامی تنازع ہے اور کوئی ملکی قانون، عدالتی فیصلہ، انتخابی عمل یا آبادیاتی تبدیلی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی اقدامات، سیاسی و شہری آزادیوں پر پابندیوں اور آبادیاتی، سیاسی اور ثقافتی کردار تبدیل کرنے کی کوششوں کو بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا۔

اسحاق ڈار نے مسئلہ کشمیر کو مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ اور خطے کے وسیع تر امن و سلامتی سے بھی جوڑا۔ انھوں نے کہا کہ دو جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کے درمیان براہ راست فوجی تصادم اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو محض نظرانداز کرکے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پاک بھارت تنازاعات و اختلافات کی بنیادی وجہ ہی مسلہ کشمیر ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا معاملہ بھی اسی تناظر میں اٹھایا اور کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی ذمہ داریوں کو کسی فریق کے لیے ناگوار ہونے کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو صرف سیاسی حقِ خودارادیت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے علاقائی سلامتی، بین الاقوامی قانون اور بین الریاستی ذمہ داریوں کے وسیع تر تناظر میں بھی پیش کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں موجودگی نے اس سفارتی مہم کو مزید اعلیٰ سطح فراہم کی ہے۔ وزیراعظم نے کویت، کینیا اور صومالیہ سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے دورے کا ایک بنیادی مقصد عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان کا مؤقف اور علاقائی و عالمی امن کے حوالے سے اس کی ترجیحات اجاگر کرنا ہے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو ’’Terrific Man‘‘ قرار دیا اور مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے خاتمے میں اپنے کردار کا حوالہ دیا۔ اگرچہ ٹرمپ کی گفتگو کا بنیادی محور کشمیر نہیں تھا تاہم پاک بھارت کشیدگی اور اس کے خاتمے کا عالمی فورم پر ذکر اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کا امن اور پاک بھارت تعلقات اب بھی عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع ہیں اور یہ کہ نزاع کی وجہ کشمیر ہے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کا آج جنرل اسمبلی سے کیا جانے والا خطاب غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ خارجہ پہلے ہی واضح کرچکی ہیں کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مسئلے کو عالمی برادری کے سامنے اٹھائیں گے۔ لہٰذا موجودہ سفارتی ماحول، اردوان کے بیان، او آئی سی رابطہ گروپ کے اعلامیے اور اسحاق ڈار کی بھرپور سفارتی مداخلت کے بعد یہ توقع بجا ہے کہ وزیراعظم آج سب سے بڑے عالمی فورم پر اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو زوردار انداز میں اٹھائیں گے اور اسے جنوبی ایشیا کے امن، بین الاقوامی قانون اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے ساتھ مربوط کریں گے۔

موجودہ جنرل اسمبلی اجلاس کی سرگرمیوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایک قابلِ توجہ تسلسل سامنے آتا ہے۔ کشمیر کا ذکر ترک صدر نے جنرل اسمبلی کے مرکزی پلیٹ فارم پر کیا، او آئی سی رابطہ گروپ نے اسی اجلاس کی سائیڈ لائنز پر اس مسئلے کے لیے مشترکہ مؤقف دہرایا، کشمیری نمائندوں نے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کو زمینی صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ پاکستان کے نائب وزیراعظم نے اس حمایت کو مؤثر سفارتی کارروائی میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بھارت نے او آئی سی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ او آئی سی کی جانب سے کشمیر کا ذکر بھارتی حکومت کے لیے اب بھی ایک حساس سفارتی معاملہ بلکہ سفارتی چوٹ ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی کو کس حد تک عملی پیش رفت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور مقبوضہ علاقے کی صورتحال پر تشویش اپنی جگہ اہم ہیں مگر تنازعات کے پائیدار حل کے لیے مسلسل سفارتی کوشش، بین الاقوامی توجہ اور متعلقہ فریقوں کے درمیان بامعنی سیاسی عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔

چنانچہ نیویارک میں جاری سرگرمیوں کو محض بیانات کا سلسلہ سمجھنا اس سفارتی عمل کی پوری تصویر پیش نہیں کرے گا۔ اردوان کا خطاب، او آئی سی کا مشترکہ مؤقف، اسحاق ڈار کی سرگرم سفارت کاری، حریت نمائندوں کی بریفنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب ایک ہی بڑے سوال کی مختلف کڑیاں ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیسے قائم ہوگا جبکہ جموں و کشمیر کا تنازع بدستور حل طلب ہے؟ وزیراعظم کا خطاب اس سوال کو عالمی برادری کے سامنے مزید نمایاں کرنے کا ایک اہم موقع ہوگا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button