لداخ: بھارتی فورسز کے ہاتھوں چار افراد ہلاکت کی پہلی برسی ، علاقے میں مکمل ہڑتال
لیہہ میں سونم وانچنگ کی قیادت میں 20کلو میٹر طویل مارچ ،کرگل میں بھی احتجاجی مارچ
لیہہ: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ میں گزشتہ برس آج کے روز بھارتی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد کی ہلاکت کی پہلی برسی پر ماحول ایک مرتبہ پھر سخت کشیدہ ہو گیا ہے۔ خطے میں آج مکمل ہڑتال کی گئی۔علاقے کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک کی قیادت میں لیہہ میں 20کلو میٹر طویل علامتی مارچ اور ضلع کرگل میں بھی احتجاجی مارچ کیا گیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سونم وانگچک کی قیادت میں یہ مارچ بدھ کی صبح لیہہ کے علاقے ‘کھارو’ سے شروع ہوا، جس میں ‘لیہہ ایپکس باڈی’ (ایل اے بی) کے نمائندے بھی ان کے ساتھ مارچ میں شامل تھے۔
وانچنگ نے ایک بیان کہا کہ انتظامیہ لداخ کے گاؤں گاؤں میں شراب کی دکانیں کھول رہی ہے۔ تہواروں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن پچھلے سال لداخ کی ثقافت اور ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو صرف 15 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار جب علاقے میں جمہوری نظام قائم ہو جائے،تو اس کے بعد زمین، شراب پالیسی، صنعت اور سیاحت جیسے بڑے فیصلے اجتماعی طور پر لیے جائیں گے۔
لیہہ ایکپس باڈی ( ایل اے بی) کے چیئرمین چھیرنگ دورجے لاکرک نے بتایا کہ 24 ستمبر کو شہریوں کی ہلاکتوں کی پہلی برسی کے موقع پر لیہہ میں اس مارچ کے بعد ایک تقریب” منعقد کی جائے گی جس میں گزشتہ برس اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کرنے والوں کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات قائم ہیں اور ان سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔








