مقبوضہ جموں و کشمیر
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بجلی مہنگی، یکم ستمبر سے نرخوں میں6.83 فیصد اضافہ

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بجلی کے صارفین کو یکم ستمبر 2026 سے اضافی بل ادا کرنا ہوں گے، کیونکہ بھارت نے علاقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اوسطاً 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نظرثانی شدہ ٹیرف آرڈر میں جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ اور کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ دونوں شامل ہیں۔ یہ نیا ٹیرف 31 مارچ 2027 تک نافذ العمل رہے گا۔حکم نامے کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مشترکہ مجموعی آمدنی 10,275.72 کروڑ بھارتی روپے مقرر کی گئی ہے۔موجودہ نرخوں سے متوقع آمدنی 7,352.87 کروڑ روپے ہوگی جس سے 2,922.85 کروڑ روپے کا مالیاتی خلا پیدا ہوگا۔






