مقبوضہ جموں و کشمیر

گریز میں مجوزہ ”تنتر سائلنس”پروگرام پرمیرواعظ ، مفتی اعظم کاشدید ردعمل، اجازت نہ دینے کا مطالبہ

سیاسی، سماجی و مذہبی رہنماوں نے تنتر سائلنس پروگرام کوکشمیر کی صوفی روایات کے خلاف قراردیا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے علاقے گریز میں مجوزہ ”تنتر سائلنس”پروگرام سے متعلق تشہیری پوسٹ سامنے آنے کے بعد علاقے کے سیاسی ، سماجی اور مذہبی حلقوں نے سخت ردعمل اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنمامیرواعظ عمر فاروق نے اس حوالے سے اپنا سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاحت کے نام پر کشمیر کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور کشمیر کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی تشخص و اقدار کے استحصال کو روکنے کے لیے ضروری کارروائی کریں۔میرواعظ نے ”ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے،یہ انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے کہ جموں و کشمیر کے علاقے گریز میں اس نوعیت کے پروگرام کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ اسی تنظیم کی جانب سے گوا میں منعقد کیا جانے والا ایک ملتا جلتا پروگرام عوامی احتجاج کے بعد پولیس نے منسوخ کر دیا تھا، کیونکہ اس کی تشہیری تفصیلات پر فحاشی اور نامناسب مواد کے حوالے سے شدید اعتراضات سامنے آئے تھے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر صوفیوں اور اولیا کی سرزمین ہے۔ یہاں روحانیت کو محسوس اور ماناجاتا ہے، اسے کسی قیمت پر فروخت یا تشہیر نہیں کیا جاتا! سیاحت کے فروغ کو ہمارے مذہبی، ثقافتی اور سماجی تشخص کو مجروح کرنے یا ہماری اقدار اور حساسیت کو نظرانداز کرنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔متعلقہ حکام خصوصا وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور قابض انتظامیہ، کو فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور اس استحصال کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر السلام نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گریزجموں و کشمیر کے ورثے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ترقی اور سیاحت کو خطے کے ثقافتی کردار، مقامی حساسیت اور دیرینہ روحانی روایات کا احترام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک ایسی سرزمین ہے جو صوفیوں، ریشیوں اور اولیا کی عمیق وراثت سے عبارت ہے، جہاں روحانیت کی جڑیں تاریخی طور پر تزکیہ، سادگی، تحمل اور اندرونی تبدیلی میں پیوست ہیں۔ سیاحت کا خیرمقدم ہے، لیکن یہ ایسے پروگراموں کو متعارف کرانے کا لائسنس نہیں بن سکتا جن کے کردار یا تشہیری زبان وادی کے ثقافتی اور سماجی اخلاق سے متصادم ہو۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ایکس پر گریز میں مجوزہ تنتر سائلنس پروگرام سے متعلق اپنا سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ معاملہ فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے کہ گریز میں اس قسم کے پروگرام کی اجازت دی جا رہی ہے، جب گوا میں تنظیم کے ایک ایسے ہی پروگرام کی فحش تشہیری مہم اشتعال انگیزی کا باعث بنی تو پولیس نے پروگرام کو منسوخ کر دیا تھا۔انہوں نے لکھا کہ کشمیر صوفیوں اور اولیا کی سرزمین ہے۔ سیاحت کا فروغ ہماری مذہبی، ثقافتی اور سماجی اقدار کو مجروح کرنے اور ہماری اقدار اور حساسیت کو نظر انداز کرنے کا بہانہ نہیں بن سکتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button