مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیرکے تعلیمی، ثقافتی منظرنامے میں وسیع تبدیلیاں کررہی ہے
پالیسی تبدیلیاں علاقائی شناخت کو منظم انداز میں مٹانے کی کوشش ہیں: ناقدین
اسلام آباد: مودی حکومت کے دور میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہیں ناقدین اور مقامی تنظیمیں علاقائی شناخت کو منظم انداز میں مٹانے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دفعہ370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نئی دہلی کی مداخلت بتدریج سکیورٹی اور انتظامیہ سے آگے بڑھتے ہوئے کلاس رومز، نصاب اور تعلیمی اداروں تک پھیل رہی ہے۔2025میں قابض حکام نے جماعت اسلامی سے منسلک فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والے 215اسکولوں میں مداخلت کی جس سے 50ہزار سے زائد طلبہ متاثر ہوئے۔یہ عمل اپریل 2026میں مزید آگے بڑھا جب قابض حکام نے فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام مزید 58اسکولوں کا باضابطہ طور پر کنٹرول سنبھال لیا۔ فلاح عام ٹرسٹ کے زیر انتظام ادارے تاریخی طور پر پورے جموں و کشمیر میں سستی تعلیمی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت اس آڑ میں اپنے فلیگ شپ پروگرام وزیر اعظم اسکولز فار رائزنگ انڈیا کے ذریعے قومی تعلیمی پالیسی پر مبنی ماڈل اسکولوں کے پروگرام کو وسعت دے رہی ہے۔ جولائی 2026تک بھارت بھر میں 13,092اسکولوں کا انتخاب کیا جا چکا ہے جبکہ اس پروگرام کا واضح مقصد قومی تعلیمی پالیسی 2020کے نفاذ کو اجاگر کرنا ہے۔
تشویش کا باعث جدید کلاس رومز، لیباریٹریز یا پیشہ ورانہ تربیت نہیں بلکہ ناقدین کا یہ سوال ہے کہ کیا مرکزی سطح پر تیار کردہ تعلیمی مواد جس میں بھارتی علمی نظام بھی شامل ہے، کشمیر کی منفرد تاریخی اور ثقافتی روایات کے لیے گنجائش کو محدود نہیں کرے گا۔یہ تشویش مارچ 2026میں جموں یونیورسٹی میں اس وقت مزید بڑھ گئی جب ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ سے وابستہ طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی کی ایک کمیٹی نے ماسٹر آف آرٹس( پولیٹیکل سائنس) کے نصاب سے محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور علامہ اقبال کے نام اور متعلقہ مواد نکالنے کی سفارش کی۔ یونیورسٹی نے ابتدا میں اس مواد کا دفاع کرتے ہوئے اسے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)کی ہدایات سے ہم آہنگ قرار دیا تھا۔
ہندوانتہاپسندوں کے دبائو پرکشمیر یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (IUST)اور یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر نے اٹلانٹا میں قائم کشمیر کیئر فائونڈیشن کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے۔ فائونڈیشن کے پروگراموں میں طلبہ کی رہنمائی اور تعلیمی سرگرمیاں شامل تھیں۔بھارتی حکام نے بعض کتابوں کو لائبریریوںسے ہٹانے اور ان کی دستیابی محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کرتے ہوئے تعلیمی اور فکری بیانیے پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ ناقدین ان اقدامات کو کشمیر کی فکری، تاریخی اور ثقافتی یادداشت کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ناقدین، مقامی کارکنوں اور متعدد بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پالیسی تبدیلیاں جموں و کشمیر کی منفرد ثقافتی، لسانی اور تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہیں۔




