بھارت

بھارت: مدھیہ پردیش میں آدیواسی قبائل کے 25سے 30 بچوں کی اموات

نئی دہلی: مودی حکومت کی بے حسی اوربے توجہی کے باعث مئی سے ستمبر 2026کے دوران بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ضلع بالاگھاٹ کے دور افتادہ دیہات میں بیگا اور گونڈ آدیواسی قبائل سے تعلق رکھنے والے کم از کم 25بچے ہلاک ہوئے جبکہ بعض رپورٹس میں اموات کی تعداد 30سے زائد بتائی گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں ان اموات کی وجہ خسرہ اور ملیریا کا پھیلا ئو بتایاگیا، جبکہ شدید غذائی قلت، ویکسینیشن کی ناقص شرح اور بنیادی طبی سہولیات تک محدود رسائی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کو مدھیہ پردیش کے ضلع بالاگھاٹ میں 25سے 30قبائلی بچوں کی اموات پر اپنی خاموشی توڑنی چاہیے۔ بیگا اور گونڈ قبائل سے تعلق رکھنے والے یہ بچے جو بھارت کے سب سے زیادہ کمزور طبقات میں شمار ہوتے ہیں، خسرہ، ملیریا اور فاقہ کشی کی حد تک شدید غذائی قلت کے باعث جان سے گئے، جبکہ دہلی کی حکومت نے اس صورتحال پر توجہ نہیں دی۔ کئی ماہ تک دور دراز دیہات میں یہ بچے ڈاکٹروں کی عدم دستیابی، ویکسینیشن کی ناکامی اور راشن کی قلت کے باعث تڑپتے رہے۔ وزیرِ اعظم مودی جو قوم کو ترقی یافتہ بھارت کا درس دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے، ان کی جانب سے اب تک افسوس، جوابدہی یا فوری اقدامات کے حوالے سے ایک لفظ بھی سامنے نہیں آیا۔ یہ کوئی دور دراز مقام پر پیش آنے والا معمولی سانحہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست میں ہو رہا ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے جبکہ مرکز میں بھی بی جے پی برسرِ اقتدار ہے اور ہر شہری کی فلاح و بہبود کا دعویٰ کرتی ہے۔ جب دلت یا قبائلی بچے قابلِ علاج اور قابلِ تدارک بیماریوں سے بڑی تعداد میں جان سے جائیں تو حکمرانوں کی خاموشی متاثرہ خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ یہ خاموشی بھارت کے غریب ترین شہریوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ان کی زندگیاں تصویری تشہیر اور انتخابی نعروں سے کم اہم ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button