بھارت میں زائد المیعاد اشیائے خورونوش پر جعلی لیبل لگا کر برآمد کرنے کے فراڈ کا پردہ فاش
نئی دہلی: بھارتی ریاست مہاراشٹرا میںفوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)نے نوی ممبئی کے علاقے تربھے میں سادھنا انٹرپرائزز کے گودام پر چھاپہ مار کر غذائی مصنوعات کی برآمد سے متعلق ایک بڑے فراڈ کا پردہ فاش کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کارروائی کے دوران لیز،کرکرے ، میگی، کنور،ہیل مینز، تھمزاپ اورلمکا سمیت معروف برانڈز کے اسنیکس اور مشروبات کے تقریبا 5,000کارٹن ضبط کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 75.21لاکھ بھارتی روپے، یعنی تقریبا 80,000امریکی ڈالر بتائی گئی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ مصنوعات کی اصل ایکسپائری تاریخیں کیمیائی طریقے سے مٹا کر نئی تاریخیں درج کی گئی تھیں، جبکہ بعض پیکٹس پر 2 اکتوبر 2026 کی ایسی تاریخِ تیاری بھی درج تھی جو اس وقت مستقبل کی تاریخ بنتی تھی۔ اصل پیکنگ پر جعلی انگریزی-فرانسیسی غذائی معلومات کے لیبل اوربھارتی مصنوعات کے اسٹیکرز لگائے گئے تھے، تاکہ زائد المیعاد ہونے کے قریب سامان کو 19 برآمد کنندگان کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجا جا سکے۔ یہ معاملہ محض غلط لیبلنگ کا نہیں بلکہ فوڈ سیفٹی، برآمدی نگرانی اور بین الاقوامی صارفین کے اعتماد سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اگر ایکسپائری تاریخ، تاریخِ تیاری، غذائی معلومات اور مصنوعات کی شناخت تبدیل کی جا سکتی ہو تو ایسی مصنوعات غیر ملکی صارفین کے لیے صحت اور شفافیت دونوں کے حوالے سے خطرہ بن سکتی ہیں۔ کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے لیے معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ضبط شدہ کرکرے کے ایک پیکٹ پر کینیڈین مارکیٹ سے مطابقت رکھنے والے انگریزی-فرانسیسی دو لسانی لیبل پائے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ بھارت پہلے ہی پاکستانی باسمتی چاول اور کھیوڑہ کے ہمالیائی گلابی نمک کی اصل شناخت تبدیل کر کے بیچنے کی کوشش کر چکا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹنگ سے متعلق حقائق سامنے آتے رہے ہیں۔ ممبئی کا یہ واقعہ کینیڈا اور دوسرے ممالک کے لیے ایک انتباہ ہے جہا ں عوام کے صحت اور کھانے کے معیار کے بارے میں بہت زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے-







