ہیگ: ثالثی عدالت کا بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم
ہیگ: ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے بھارت کو پن بجلی منصوبوں پر کام محدود کرنے اور پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے خطے میں پن بجلی منصوبوں پر کام سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق محدود رکھنے اور پاکستان کے ساتھ طے شدہ آبی معاہدے کی پاسداری کرنے کی ہدایت کی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا ‘سندھ طاس معاہدہ’ اب بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہے کیونکہ بھارت کے پاس اس معاہدے کویکطرفہ طور پر ختم یا معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔ثالثی عدالت نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایک غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا ہمالیائی خطے میں ان پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔یہ معاملہ خاص طورپر کشن گنگا اور رَتلے پن بجلی منصوبوں سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری طویل تنازع کا حصہ ہے۔ بھارت ماضی میں ہیگ کی ثالثی عدالت کی کارروائی کو مسترد کرتا رہا ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہےجسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا۔






