مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں اور چھاپوں کا سلسلہ تیزکرنے کے احکامات

 

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں مودی حکومت نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی آڑ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، چھاپوں اور نگرانی کا عمل مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ ہدایات لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جاری کی گئیں۔ منوج سنہا نے بھارتی فورسز پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام پر مسلسل دباو¿ برقرار رکھیں اور پورے علاقے پر غلبہ قائم کرنے کی جارحانہ حکمتِ عملی اپنائیں۔احکامات میں نگرانی بڑھانے، بھارتی فورسز اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور ان عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے جنہیں قابض حکام دہشت گرد نیٹ ورکس قرار دیتے ہیں۔ نئی دہلی نے یہ اصطلاحات بے گناہ کشمیری عوام کے خلاف اپنے جابرانہ اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے وضع کی ہیں۔ان اقدامات کے نتیجے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں، ناکہ بندی، نگرانی اور عام شہریوں سے پوچھ گچھ میں اضافہ متوقع ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جو پہلے ہی شدید فوجی محاصرے کا شکار ہیں۔ منوج سنہا نے سائبر اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی بھی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی اور اس کے لیے بھارت مخالف پروپیگنڈے، گمراہ کن معلومات اور آن لائن بلیک میلنگ کا حوالہ دیا۔ ان ہدایات میں استعمال کی گئی مبہم زبان نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ اظہارِ رائے، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور اختلافی آوازوں کی نگرانی بڑھائی جائے گی۔اجلاس میں سول، پولیس اور بھارتی فورسز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جن میں چیف سیکریٹری اتل ڈلو، ڈائریکٹر جنرل پولیس نلن پربھات، پرنسپل سیکریٹری داخلہ چندراکر بھارتی، اعلیٰ پولیس افسران، ڈویڑنل کمشنرز اور ڈپٹی انسپکٹر جنرلز شامل تھے۔ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے استعمال اور کارروائیوں سے علاقے میں خوف ودہشت اور عدم تحفظ کی فضا قائم ہو رہی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ تازہ احکامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت سیاسی تنازعے اور عوامی شکایات کو بامعنی سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنی فوجی گرفت مزید مستحکم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button