تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیرہے : مقررین سیمینار
مظفرآباد:تحریکِ آزادیِ کشمیر کے حوالے سے نوجوان نسل میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لیے مظفرآباد میں ”تحریکِ آزادیِ کشمیر اور نوجوان نسل کی ذمہ داریاں، کردار اور مستقبل“ کے عنوان سے ایک پروقار سیمینار منعقد ہوا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیمینار میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین سیاسی و انسانی صورتِ حال، حریت قیادت اور سیاسی کارکنوں کی طویل نظربندی، متاثرہ خاندانوں کو درپیش مسائل، کشمیری شناخت کو درپیش چیلنجز اور مسئلہ کشمیر کے حل میں عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی گئی۔سیمینار کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے رہنما مشتاق احمد بٹ نے کی جبکہ جمعیت اہلِ حدیث آزاد کشمیر کے ناظمِ اعلیٰ محمد امین بٹ مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں حریت رہنماو¿ں، سیاسی و مذہبی قائدین، دانشوروں اور طلباءو طالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک سیاسی تنازعہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، سیاسی مستقبل اور حقِ خودارادیت سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال، حریت قیادت کی مسلسل نظربندی اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کا سنجیدہ نوٹس لیں۔
مقررین نے کہا کہ نظربند حریت رہنماو¿ں اور سیاسی کارکنوں کے اہلِ خانہ برسوں کی جدائی، اپنے پیاروں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات اور معاشی و سماجی مشکلات سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہاکہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ بالخصوص نیم بیواﺅں اور اپنے عزیزوں کی واپسی کے منتظر خاندانوں کا کرب ایک سنگین انسانی المیے کی عکاسی کرتا ہے جس پر عالمی برادری کی توجہ ضروری ہے۔
انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادوں کی ضبطی، مکانات کی مسماری اور دیگر غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ خطہ ہے جس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ یک طرفہ اقدامات کے ذریعے اس کی متنازعہ حیثیت یا کشمیری عوام کے سیاسی حقوق کو متاثر کرنا قابلِ قبول نہیں۔
مقررین نے نوجوان نسل کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان تحریکِ آزادیِ کشمیر کا اہم سرمایہ ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی، سیاسی اور انسانی پہلوو¿ں کا گہرا مطالعہ کریں، تحقیق و علم کو اپنی قوت بنائیں اور عالمی سیاست و سفارت کاری کو سمجھتے ہوئے اپنا مو¿قف مدلل انداز میں پیش کریں۔ مقررین نے اسیرانِ حریت کے اہلِ خانہ اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کو قومی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری قرار دیا۔ سیمینارسے دیگر لوگوں کے علاوہ حریت رہنماﺅں عبدالمجید میر، مشتاق الاسلام، طلباءرہنما زینب درانی، منیر کونشی اور فلک خان نے بھی خطاب کیا۔







