بھارت

پرامن مظاہرین کو نظر بند نہیں کیا جا سکتا، میٹرو، ریل اور انٹرنیٹ خدمات بحال کی جائیں، سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی میں گزشتہ روز (10 اکتوبر) احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف حکومتی کارروائی کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں کی سماعت کی۔ جسٹس جویمالیہ باغچی اور وی موہنا پر مشتمل بنچ نے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے مظاہرین کو حراست میں لینے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کسی بھی شخص کو قانون میں وضع کردہ طریقۂ کار کے بغیر حراست میں نہ لیا جائے اور پُرامن، غیر مسلح اجتماعات کو بلاجواز نہ روکا جائے۔

بنچ نے ہدایت دی کہ میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں، جب تک امنِ عامہ کی صورتِ حال کے باعث پابندیاں ضروری نہ ہوں۔ لوگوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے بنچ نے ہدایت کی کہ شہر میں ٹریفک قوانین کے مطابق آزادانہ آمدورفت کی اجازت دی جائے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ہر جگہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کے حق میں نہیں ہے اور ہدایت دی کہ امن و امان اور ٹریفک کی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر بیریکیڈنگ کا جائزہ لیا جائے۔ بنچ نے یہ بھی ہدایت کی کہ انٹرنیٹ سروس میں کوئی خلل نہیں آنا چاہیے۔

بنچ نے حکام کو ہدایت دی کہ سپریم کورٹ کے آس پاس کے علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے نفاذ سے متعلق بورڈ ہٹا دیا جائے تاکہ انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

بنچ وکیل شیلیندر منی ترپاٹھی کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے 9 اکتوبر کے حکم کے باوجود حکام دہلی میٹرو اسٹیشن بند کر رہے ہیں اور ٹرین خدمات معطل کر رہے ہیں۔

سینئر وکیل کپل سبل نے بھی ایک درخواست پر دلائل دیے، جس میں دفعہ 163 کے نفاذ اور لوگوں کو حراست میں لینے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سبل نے کہا کہ لوگوں کو ٹرینوں وغیرہ سے اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کی معطلی کا معاملہ بھی اٹھایا۔

سینئر ایڈووکیٹ شاہدان فراست نے مظاہرین کو بسوں میں گھسیٹنے کے خلاف دلائل دیے۔ سینئر ایڈووکیٹ این ہری ہرن نے کہا کہ شہری شہر میں آزادانہ گھومنے پھرنے کا حق کھو چکے ہیں۔

این ہری ہرن نے وکلا کو حراست میں لینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ سینئر ایڈووکیٹ گوپال شنکرارائنن نے عدالت کو بتایا کہ وہ جنتر منتر کے باہر وکلا کے خلاف پولیس کارروائی کی ویڈیوز ریکارڈ پر لائے ہیں۔ انہوں نے عدالت پر زور دیا کہ وکلا اور دیگر افراد کے خلاف تشدد کی ویڈیوز کا جائزہ لیا جائے۔

شنکرارائنن نے عدالت سے اپیل کی کہ شہر میں آزادانہ نقل و حرکت بحال کی جائے اور تمام رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت دی جائے۔ سینئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے نے کہا کہ وکلا کو اپنے موکلوں کی مدد کرنے سے روکا جا رہا ہے اور پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سینئر ایڈووکیٹ شعیب عالم نے بتایا کہ لوگوں کو ٹرینوں میں روک کر مسافروں کو باہر نکال دیا گیا۔ احتجاج کے مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ عالم نے کہا کہ لوگوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور ان کے احتجاج کے حق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ سمیت تقریباً سات ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ شہریوں سے پُرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے اور آخری بار ایسا 50 سال پہلے ایمرجنسی کے دوران ہوا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button