مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت بوکھلاہٹ میں پورے مقبوضہ علاقے میں نہتے شہریوں کو قتل کر رہا ہے،حریت کانفرنس

APHC

سرینگر 18 اکتوبر (کے ایم ایس)
غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام پر مکمل طورپرہندو انتظامیہ مسلط کرنے کیلئے فسطائی بھارتی حکومت کی جانب سے مسلمان ملازمین کو جبری طورپر برطرف کرنے کی مہم کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں تحریک آزادی کے معروف قائدسید علی گیلانی کے نواسے انیس الاسلام اور ڈوڈہ کے ایک ٹیچر کی انکی ملازمتوں سے حالیہ برطرفی کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حریت پسند کشمیری عوام ان کے ساتھ روابھارت کے نوآبادیاتی رویے کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ تاریخی حقائق نے بار ہاثابت کیا ہے کہ نوآبادیاتی طرز عمل سے ہی سامراجی ملک میں تباہی آتی ہے۔ انہوں نے مودی کی سربراہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر زوردیا کہ وہ اپنے چہرے سے جہالت کا نقاب اتار کر جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کے نفاذ کا سلسلہ ترک کر دے ۔حریت ترجمان نے کہاکہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نواز سیاست کا خاتمہ کردیا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھار ت مایوسی اور بوکھلاہٹ میں مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں نہتے شہریوں کو قتل کر رہا ہے۔انہوںنے بنیادی انسانی حقوق پر بھارتی قابض انتظامیہ کی قدغن کے باوجود تحریک آزادی کشمیر کو ہر قیمت پر اسکے منطقی انجامت تک جاری رکھنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کا سخت نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں مدددیں ۔ ان قراردادوں پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں ۔

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button