نمک حرام سے تشدد تک: بی جے پی لیڈر مسلمانوں کیخلاف زیر افشانی میں مصروف ، ریاستی مشینری خاموش تماشائی

نئی دلی :ریاست بہار میں انتخابات سے قبل ہندوتوا بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈرایک بارپھر اپنی نفرت کی سیاست جاری رکھتے ہوئے ملک کے سب سے بڑی اقلیتی مسلمانوں کے خلاف ذہر افشانی میں مصروف ہیں اورریاستی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 6 اور 11 نومبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل بی جے پی کے مرکزی وزیر گیریراج سنگھ نے ایک حالیہ بیان میں مسلمانوں کو نمک حرام قراردیا ہے جو حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں ۔ یہ بیان صرف ایک ذاتی رائے نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح فلاحی اسکیمز کو مسلمانوں پر دبائو ڈالنے اور انہیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔رائے سبھا کی رکن مدھا کولکرنی نے شنیوار وڈا میں ایک خوفناک "صفائی” کا مظاہرہ کیا، جہاں مسلمان خواتین کو نماز پڑھنے سے روکنے کیلئے گائے کے پیشاب کا چھڑکا ئوکیا گیا۔انہوںنے واضح پیغام دیاہے کہ بھارت میں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ۔وہ بھارت کے شہری نہیں ہیں۔ اس دوران ہندوتوا لیڈر پراگیا ٹھاکر نے ہندووالدین سے کہاکہ وہ اپنی بیٹیوں کو، جو اپنے مذہب کے علاوہ شادی کرتی ہیں، تشدد کے ذریعے سزا دیں۔پراگیاٹھاکر کا بیان صرف نفرت کااظہار ہی نہیں بلکہ خواتین کے خلاف تشدد کو جائز قرار دینے کی مذموم کو شش ہے۔ یہ محض الگ تھلگ واقعات نہیں، بلکہ انتخابات سے قبل منصوبہ بندی کے ساتھ کیے گئے سرکاری اشارے ہیں جو دھمکی، تعصب اور فرقہ وارانہ تقسیم کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین جیسی پارٹیوں کی حمایت کرنے والے سیاسی طور پر سرگرم بہار کے مسلمانوںکو تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ اکثریتی ہندو ووٹ کو متحد کیا جا سکے۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین جیسی پارٹیوں نے بی جے پی کی نیندیں حرام کر دی ہیں ۔بھارت، جو کبھی رواداری، یکجہتی اور جمہوری اقدار کا علمبردار تھا، بی جے پی کے دور میں خوف، نفرت اور طاقت کی مثال بن گیا ہے۔ اگر بھارت میں یہ رجحانات جاری رہے تو انتخابات محض عوام کی رائے نہیں، بلکہ ایک طے شدہ اسکرپٹ کا حصہ ہوں گے۔





