حریت کانفرنس کا نظر بند حریت رہنمائوں کی حالت زار پر اظہار تشویش

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جمو ں وکشمیر میںکل جماعتی حریت کانفرنس نے کالے قوانین کے تحت جھوٹے مقدمات میں جیلوں میںبند حریت رہنمائوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برا دری سے انکی رہائی کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جے پی کی بھارتی حکومت نظر بند حریت قیادت کوبڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے ، وہ طویل نظر بند ی کے ذریعے حریت رہنمائوں کے حوصلے پست کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے زیر اثر بھارتی عدلیہ نے محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ ، شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر حمید فیاض ، ایڈوکیٹ میاںعبدالقیوم اور دیگر رہنما برسہا برس سے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ کشمیری رہنمائوںکو جھوٹے مقدمات میں سزائیں اس بات کا غماز ہے کہ بھارتی عدالتیں اپنے فیصلوں میںآزاد نہیں بلکہ مکمل طورپر بی جے پی حکومت کے تابع ہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارت برسوں کی نظر بندی ، ذہنی و جسمانی تشدد اور جبر وستم کے دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے حریت رہنمائوں کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہا ہے لہذا اب وہ انہیں ہمیشہ کے لیے جیل میں رکھ کر دیوار کیساتھ لگانا چاہتا ہے۔
ترجمان نے اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور کشمیری قیادت کو ہندوتوا آر ایس ایس/بی جے پی کے عتاب سے بچائیں۔






