
جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے جموں ریجن میں جاری قابض انتظامیہ کی مکانات مسمار کرنے کی مہم کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی۔ مظاہرین نے مکانات کی مسماری اور جبری بے دخلی کے خلاف شدید احتجاج کیا جبکہ متاثرہ خاندانوں نے قابض انتظامیہ کی اس کارروائی کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پیر کے روز سدھرا کے علاقے بندی راگورہ میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب رائکہ بندی جنگل کے علاقے میں تجاوزات کے نام پر مکانات مسمار کرنے کی کارروائی کے خلاف مقامی لوگ احتجاج کے لیے جمع ہوگئے۔ علاقے میں بھارتی پولیس، انڈو-تبتین بارڈر پولیس اور آرمڈ پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مظاہرین نے پتھرائو کیا اور اشتعال انگیز تقاریر کیں، جس کے بعد حالات قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی کی گئی۔ دوسری جانب مقامی افراد اور متاثرہ خاندانوں کا موقف ہے کہ وہ اپنے گھروں کی مسماری اور بے دخلی کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ محکمہ جنگلات، محکمہ مال اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران تقریبا 25 مکانوں کو مسمار جبکہ 60کنال کے قریب جنگل کی اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں متعدد خاندان متاثر ہوئے جن میں بڑی تعداد خانہ بدوش برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی نسلوں سے اس علاقے میں آباد ہیں اور ان کی موجودگی کے شواہد 1952 کے ووٹر ریکارڈ سمیت مختلف سرکاری دستاویزات میں موجود ہیں۔ ان کامزید کہناتھا کہ قابض حکام نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ان کے مکانات مسمار کر دئے ہیں۔







