بھارت : کاکروچ جنتا پارٹی کا پہلا احتجاج، دلی میں ہائی الرٹ
پارٹی کے بانی احتجاج میں شرکت کے لیے امریکا سے بھارت پہنچ چکے ہیں

نئی دلی:بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی )نیٹ، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی جیسے اہم قومی امتحانات میں ھاندلی کے خلاف نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر ایک بڑا احتجاج کر رہی ہے۔اس حوالے سے دہلی میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ایک طنز کے طور پر شروع ہونے والی یہ تحریک بہت کم وقت میں نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا سیاسی پلیٹ فارم بن چکی ہے اور انسٹاگرام پر اس کے 22 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے اس احتجاج کا بنیادی مقصد حالیہ سی بی ایس ای اور نیٹ امتحانات میں ہونے والی مبینہ گڑبڑ اور ناکامیوں پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لینا ہے۔اس مہم کے بانی ابھیجیت دیپکے امریکا کے شہر بوسٹن سے بھارت واپس پہنچ چکے ہیں اور یہ احتجاج ان کی اس آن لائن مہم کا پہلا بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔
قبل ازیں ان کے حامیوں نے دلی ایئرپورٹ پر جمع ہونے کی اپیل کی تھی لیکن ابھیجیت دیپکے نے لوگوں کو وہاں آنے سے منع کر دیا تھا۔دلی پولیس نے ابھیجیت دیپکے سے ایئرپورٹ پر ملاقات کے بعد انہیں جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنے کی باقاعدہ اجازت دی۔
ابھیجیت دیپکے جب ایئرپورٹ سے باہر آئے تو ان کے ہاتھ میں بھارت کے آئین کے بانی بی آر امبیڈکر کی سوانح عمری کی ایک کتاب بھی موجود تھی۔اس مظاہرے کے پیش نظر کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے حامیوں کے لیے باقاعدہ رہنما اصول یعنی کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس کی فہرست جاری کی ہے۔تنظیم نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرے کے دوران پرامن اور منظم رہیں تاکہ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک نہیں رکیں گے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس چھوٹے سے مذاق کو ایک انقلاب میں بدل دیا جائے، اس لیے پرامن اور محبت بھرے احتجاج کے ساتھ دلی کی سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
مظاہرین کے لیے جاری کردہ ہدایات میں بھارتی پرچم ترنگا اور کوئی کتاب ساتھ لانے کا کہا گیا ہے، ساتھ ہی ہر چیز کی ویڈیو ریکارڈ کرنے، اور کسی شرپسند کی موجودگی پر انتظامیہ یا پولیس کو اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی گرمی سے بچنے کے لیے سن اسکرین لگانے، ٹوپی پہننے اور پانی ساتھ رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
دوسری طرف، رہنما اصولوں میں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ مظاہرین قسم کے دبا ئو یا اشتعال انگیزی کا جواب نہ دیں، بھوکے پیٹ نہ آئیں، پھول پھینکنے کے بجائے انہیں پرامن طریقے سے پیش کریں اور کسی بھی قسم کے پرتشدد یا خلل ڈالنے والے رویے سے دور رہیں۔
بھارت پہنچنے سے قبل ابھیجیت دیپکے نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ عوام کا ردعمل ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا ایئرپورٹ پر جمع ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس سے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، اس لیے براہ کرم دلی ایئرپورٹ پر جمع نہ ہوں۔دلی پہنچنے کے بعد انہوں نے ایکس پر لکھا کہ میں دلی پہنچ چکا ہوں اور جنتر منتر پر آپ سب سے ملنے کا منتظر ہوں، اپنے ساتھ ترنگا اور کتاب لانا نہ بھولیں اور ہمدردی و شکرگزاری کے طور پر پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں کیونکہ ہمیں اس تحریک کو محبت اور امن کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔
اس احتجاجی مہم کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کے خطے لداخ کے معروف ماحولیاتی اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے جنہوں نے عوامی سطح پر اس تحریک کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ اگر ابھیجیت دیپکے کو گرفتار کیا گیا تو وہ چھ ہفتوں کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔
دوسری طرف، دلی پولیس نے اس ڈیجیٹل گروپ کی احتجاجی کال کے بعد پورے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دلی کی سرحدوں اور دیگر حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز دراصل گزشتہ ماہ بھارتی عدالت عظمی کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک ریمارکس کے بعد طنزیہ طور پر ہوا تھا جس میں مبینہ طور پر کچھ افراد کو کاکروچ اور طفیلیا کہا گیا تھا، جو اب ایک بڑی نوجوانوں کی تحریک بن چکی ہے۔
بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ یہ پارٹی اور یہ نوجوانوں کی تحریک نظام سے جوابدہی چاہتی ہے، نظام کے اندر کی خرابی بہت گہری ہو چکی ہے اور لوگ سوشل میڈیا پر اس پارٹی کی حمایت کر کے اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
بھارت میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی نے بھی اس مسئلے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے 17 مئی کو ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ دھرمیندر پردھان بھارت کے ہر عمر کے طلبہ کو ایک ساتھ فیل کر چکے ہیں۔
پبلک پالیسی تھنک ٹینک دی ایشیا گروپ کے پارٹنر اشوک ملک نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات میں یہ ناانصافی کافی تباہ کن رہی ہے اور شاید یہ پچھلے بارہ سالوں میں حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔








