لداخ میں شراب نوشی کو فروغ دینے کی نئی ایکسائز پالیسی کے خلاف لوگوں میں شدید غم وغصہ
شراب کے استعمال کو معمول بنانے کی کوشش مقامی روایات کے برعکس ہے: سجاد کرگلی

لہہ: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے میں نئی منظور شدہ ایکسائز پالیسی پر شدید غم و غصہ پایاجاتاہے جس کے تحت منشیات کے استعمال کو روکنے، آمدنی بڑھانے اور سیاحت کو فروغ دینے کی آڑ میں شراب کی تجارت کوبڑھانے کی اجازت دی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پالیسی کی منظوری نئی دہلی کے مسلط کردہ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی علاقے کے ایکسائز نظام میں ایک بڑی اصلاح ہے جس میںآزادانہ، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد عوامی سہولت، سیاحت کے فروغ، محصولات کی اصلاح اور شراب کی تجارت کے ضوابط میں توازن لانا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس پالیسی کا مقصد لداخ خطے میں منشیات کے بڑھتے ہوئے پھیلاﺅ کو روکنا اورلوگوں کو کم الکوحل والی شراب فراہم کرنا ہے۔تاہم اس اقدام پر لداخ میں مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیمیں بڑے پیمانے پر تشویش کا اظہارکررہی ہیں اور اسے تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں۔آل لداخ گونپا ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا کہ اس موضوع پر ایل جی کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں سول سوسائٹی کے ارکان نے علاقے میں شراب کی دکانوں کی توسیع پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ بیان میں کہاگیا کہ شراب کے فروغ کے ذریعے منشیات کے استعمال کو روکنے کی منطق ناقابل قبول ہے۔ لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن (LBA) کی خواتین ونگ نے بھی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے خطے کے لیے دور رس منفی سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کئی سیاسی رہنماو¿ں نے بھی اس پالیسی کی مخالفت کی ہے۔ کرگل سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے نام پر شراب کی دکانیں کھولنے کے جواز کو سمجھنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ الکحل بذات خود ایک نشہ آور چیز ہے اور بہت سے معاملات منشیات کو روکنے کے بجائے اس میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک قسم کی منشیات کو فروغ دے کر دوسری قسم کو روکنا نہ تو درست پالیسی ہے اور نہ ہی معاشرے کے تحفظ کے لیے کوئی قابل اعتبار طرزعمل۔سجاد کرگلی نے کہا کہ لداخ طویل عرصے سے سماجی اقدار پر عمل پیرا ہے جو نشہ آور اشیاءکے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ الکحل کا استعمال نہ تو خطے کی ثقافتی اقدار کا حصہ رہا ہے اور نہ ہی آبادی کی اکثریت کے لیے قابل قبول ہے۔ انہوں نے خبردارکیا کہ آمدنی بڑھانے یا سیاحت کے فروغ کی آڑ میں شراب کے استعمال کو ایک معمول بنانے یا ادارہ جاتی بنانے کی کوئی بھی کوشش مقامی روایات، جذبات اور امنگوں کے برعکس ہے۔








