کشمیری نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور گھروں کی مسماری کی شدید مذمت

سرینگر:غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے کشمیری نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور گھروں کی مسماری کی شدید مذمت کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے ایک بیان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ دو دنوں کے دوران بھارتی قابض فورسز کی جانب سے کیے گئے بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہاکہ تقریبا 3ہزارکشمیری نوجوانوں کی گرفتاری، گھروں پر چھاپے اور متعدد رہائشی مکانات کی مسماری کشمیریوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی بدترین مثال اور انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جابرانہ اقدامات کشمیری عوام کو خوفزدہ کرنے، ان کی جائز سیاسی آواز کو دبانے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کو طاقت کے بل پر کچلنے کی ایک منظم کوشش ہیں۔ بے گناہ نوجوانوں کی جبری گرفتاریاں اور شہریوں کے گھروں کی مسماری کسی بھی جمہوری اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے معاشرے کے اصولوں کے منافی ہے۔ارشد اقبال نے بھارتی جیلوں میں برسوں سے قید کشمیری سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کی تشویشناک صورتحال پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو مناسب طبی سہولیات، منصفانہ قانونی حقوق اور دیگر بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جو عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم ، یورپی یونین، عالمی ریڈ کراس کمیٹی ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور پوری عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں، حالیہ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اورگھروں کی مسماری کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات ، اور بھارتی جیلوں میں قید تمام کشمیری سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کے تحفظ ا کے لیے موثر اقدامات کریں۔ ارشد اقبال نے کہا کہ عالمی برادری کی مسلسل خاموشی سے بھارت کے جابرانہ اقدامات کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف کے قیام اور تنازعہ کشمیر کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے عملی اقدامات کرے ۔






